رونے سے اور عِشق میں بیباک ہوگئے
دھوئے گئے ہم اتنے، کہ بس پاک ہوگئے
صرفِ بہائے مے ہُوئے آلاتِ میکشی
تھے یہ ہی دو حساب سو یُو ں پاک ہوگئے
رُسوائے دہر گو ہُوئے آوار گی سے تم
بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہوگئے
کہتا ہے کون نالۂ بُلبُل کو بے اثر
پردے میں گُل کے، لاکھ جگر چاک ہوگئے
پُوچھے ہے کیا وجُود و عدم اہلِ شوق کا
آپ اپنی آگ کے خس و خاشاک ہوگئے
کرنے گئے تھے اُس سے تغافل کا ہم گِلہ
کی ایک ہی نِگاہ کہ بس خاک ہوگئے
اِس رنگ سے اُٹھائی کل اُس نے اسد کی نعش
دُشمن بھی جس کو دیکھ کے غمناک ہوگئے
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.
No comments:
Post a Comment