Search Papers On This Blog. Just Write The Name Of The Course

Saturday, 13 February 2016

Re: ))))Vu & Company(((( محمد کا ذکر بڑے مذاہب کی کتابوں میں

Very nice

On 13 Feb 2016 12:32 pm, "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:

محمد کا ذکر بڑے مذاہب کی کتابوں میں


حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاریخ انساتیت کی وہ واحد ہستی ہے جن کا ذکر دنیا کی تمام بڑے مذاہب کی کتابوں میں کیا گیا ہے۔ آپ کا ذکر یہودی، عیسائی، ہندو مت، بدھ مت اور فارسی مت وغیرہ کی مقدس کتابوں میں کیا گیا ہیں۔

مسیحیوں کی کتابوں میں
بائبل میں

مقدس بائبل عیسائیوں کی مقدس کتاب ہے۔

ا ) بائبل کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جاتا ہیں، عہد نامہ قدیم (عتیق) اور عہد نامہ جدید۔ عہد نامہ قدیم یہودیوں کی مقدس کتاب ہے اور اس میں موسی ‎سے پہلے تمام انبیاء کے حالات کو ضبط تحریر میں لایا گیا ہیں۔ عہد نامہ جدید عیسی کے احوال پر مشتمل ہے۔
ب ) عہد نامہ قدیم اور عہد نامہ جدید کوملا کر پوری بائبل 73 کتب پر مشتمل ہیں۔ تاہم پروٹسٹنٹ بائبل جو کہ کنگ جیمز ورشن کہلاتا ہے، 66 کتب پر مشتمل ہیں۔ کیوں کہ یہ 7 کتابوں کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ اور اس کی سند پر شک کرتے ہیں۔
اس لئےکیتھولک فرقے کے عہد نامہ قدیم میں 46 کتب ہیں جبکہ پروٹشٹنٹ کے عہد نامہ قدیم میں 39 کتب ہیں۔ جبکہ دونوں فرقوں کا عہد نامہ جدید 27 کتب پر مشتمل ہیں۔ عیسائیت میں کئی فرقے ہیں، جن میں دو بڑے فرقے ہیں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ۔

قرآن مجید فرماتا ہے کہ:
وہ لوگ جو ایسے رسولۖ،نبی اُمی(ان پڑھ) کی پیروی کرتے ہیں جن کو وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ 
محمدۖ کی پیش گوئی کی گئی توریت کی پانچویں کتاب ڈیوٹرانمی (کتابِ استثنا) میں(Deuteronomy):
اﷲتعالیٰ موسی سے فرماتا ہے ڈیوٹرانمی(کتابِ استثنا) کے سورةنمبر ١٨ آیت ١٨ میں:
میں تمھارے بھائیوں کے درمیان میں سے ایک پیغمبر پیدا کرونگا،جو تمھاری (موسی) کی طرح ہوگا،اور میں اپنے الفاظ اسکے منہ میں ڈالوں گا اور وہ ان سے یہی کہے گا جو میں اسکوحکم دوں گا۔
عیسائی یہ دعویٰ کرتے ہے کہ یہ پیش گوئی عیسی کے بارے میں ہے کیونکہ عیسی موسی کی طرح تھے۔ موسی بھی یہودی تھے، عیسی بھی یہودی تھے۔موسی بھی پیغبر تھے اور عیسی بھی پیغمبر تھے۔اگراس پیش گوئی کو پورا کرنے کیلئے یہی دو اصول ہیں تو پھر بائبل میں ذکر کیے گئے تمام پیغمبرجوموسی کے بعد آئے مثلاً سلیمان،حِزقیل ،دانیال ، یحیٰ وغیرہ سب یہودی بھی تھے اور پیغمبر بھی حالانکہ یہ محمدۖ ہے جو موسی کی طرح ہے۔
١) دونوں یعنی موسی اور محمدۖ کے ماں باپ تھے جبکہ عیسیٰ معجزانہ طور پر مرد کے مداخلت کے بغیرپیدا ہوا تھا۔ 
٢) دونوں نے شادیاں کی اور ان کے بچے بھی تھے جبکہ بائبل کے مطابق عیسی نے شادی نہیں کی اورنہ ہی اُن کے بچے تھے۔
٣) دونوں فطرتی موت مرے۔جبکہ عیسیٰ کوزندہ اُٹھالیا گیا ہے۔
حضرت محمد ،حضرت موسٰی کے بھائیوں میں سے تھے۔عرب یہودیوں کے بھائی ہے۔ حضرت ابراہیم کے دو بیٹے تھے،حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق (Isaac)۔ عرب اسماعیل کے اولاد میں سے ہے اور یہودی اسحاق کے اولاد میں سے ہے۔
منہ میں الفاظ ڈالنا
حضرت محمدۖ اُمیّ یعنی ان پڑھ تھے اور جو کچھ وہ اﷲتعالیٰ سے جو کچھ وحی حاصل کرتے،وہ اِسے لفظ بہ لفظ دہرا دیتے۔ میں تمھارے بھائیوں کے درمیا ن میں سے ایک پیغمبر پیدا کروں گا،جو تمھاری (موسی) کی طرح ہوگا، اورمیں اپنے الفاظ اُسکے منہ میں ڈالوں گا اور وہ ان سے یہی کہے گا جیسے میں اُسکو حکم کرونگا۔
٢: ڈیوٹرانمی کی کتاب یہ درج ہے کہ:
جوکوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا، نہ سنے تو میں اُنکا حساب اُن سے لوں گا۔ 
محمدۖ کی پیش گوئی کی گئی (Isaiah) کی کتاب میں:
اس کا ذکر(Isaiah) کی کتاب میں ہے کہ:
جب کتاب اس کو دی گئی جوکہ ان پڑھ ہے اور کہا کہ اسکو پڑھو میں تمھارے لیے دُعا کرونگا تو اس نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ 
جب جبرائیل نے محمدۖ سے کہا کہ پڑھ تو اس نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔

قرآن کے سورة الصف کی آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ:
اور اس وقت کو یاد کرو جب عیسی ابن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل!بلاشبہ میںاﷲتعالیٰ کا رسول ہوں(جو) تمھاری طرف (بھیجا گیاہوں)۔میں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کا جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور خوشخبری سنانے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا،اسکا نام احمد ہوگا۔پھر وہ جب کھلی نشانیاں لے کر آیا تو وہ کہنے لگے کہ یہ تو صریح جادو ہے۔
تمام وہ حوالے جو عہد نامہِ قدیم (Old Testament) میں محمدۖ کے بارے میں دیئےگئے ہیں وہ یہودیوں کے علاوہ عیسائیوں کیلئے بھی درست ہے۔کیونکہ عیسائی دونوں ،عہد نامہ قدیم (Old Testament) اور عہد نامہِ جدید(New Testament) دونوں کو مانتی ہیں جبکہ یہودی صرف عہد نامہِ قدیم کو مانتے ہے۔
یوحنا(John)کی کتاب سورة ١٤ آیت ١٦
اور میںخُدا سے دُعا کروں گا اور وہ تمھیں ایک مددگار دے گا جو تمھارے ساتھ،ہمیشہ رہے گا۔
یوحنا(John) کی کتاب سورة ١٥ آیت ٢٦
میں تمھارے پاس مددگار بھیجوں گا جو میرے باپ کی طرف سے ہوگا وہ مددگار سچائی کی روح ہے جو باپ کی طرف سے آتی ہے جب وہ آئے گا تو میرے بارے میں گواہی دے گا۔
یوحَنّا(John) کی کتاب سورة ١٦ آیت ٧
میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمھارے لیے بہتر ہے کیوں کہ اگر میں جاتا ہوں تو تمھارے لیے مددگار بھیجوں گا۔اگر میں نہ جائوں تو تمھارے پاس مددگار نہ آئے گا۔
احمدیا محمدۖکا مطلب ہے وہ شخص جسکی تعریف کی جاتی ہےیا وہ جسکی تعریف کی گئی ہو۔یہ تقریباً یونانی لفظ پے ری کلایٹس(Periclytos) کے معنی ہے۔یوحَنّا کی کتاب کے سورة ١٦آیت ١٦، سورة ٥١ آیت ٢٦ اور سورة ١٦ آیت ٧ میں یونانی لفظپے ری کلیٹاس(Peraclytos) کا انگریزی میں ترجمہ(comforter)کم فرٹر یعنی مددگار لفظ سے کیا گیا ہے۔حالانکہ (Peraclytos) کے معنی ہے وکیل یا ایک مہربان دوست۔اسکا مطلب مددگارنہیں ہے۔جو انگریزی ترجمہ میں استعمال کیا گیا ہے۔ (Paracletos)پے ری کلیٹاس لفظ (Pariclytos) پے ری کلایٹس کی ٹیٹری شکل ہے۔عیسی نے درحقیقت احمد کا نام لے کر پیش گوئی کی۔نیز یونانی لفظ پے راکلیٹ (Paraclete) محمدۖ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو سارے جہان کیلئے رحمت ہے۔
بعض عیسائی یہ کہتے ہے کہ لفظ مددگار(Comforter) جس کا ذکر ان پیش گوئیوں میں کیاگیا ہے،یہ روح لقدس یا روحِ مقدس (Holy spirit) کی طرف اشارہ کرتی ہے۔لیکن یہ اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہوگئے ہے کیونکہ پیش گوئی میں یہ صاف ذکر ہے کہ جب عیسی اس دنیا سے چلا جائے گا تب مددگار(Comforter)آئے گا۔حالانکہ بائبل(Bible)یہ بتاتی ہے کہ روح القدس تو پہلے سے زمین پر موجود تھا عیسی کے زمانے میں بھی اور اس سے پہلے بھی۔وہ اِلیزبِت(Elizabeth) کے رحم میں موجود تھا اوردوبارہ جب عیسی کی بپتسمہ یا اصطباغ (Baptism) کی جارہی تھی،وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح یہ پیش گوئی صرف اور صرف محمدۖ کے بارے میں ہے اور صرف اسی کا ذکر کرتی ہے۔


یوحنا(John) کی انجیل سورة ١٦ آیات١٤-١٢

مجھے تم سے بہت کچھ کہنا ہے مگر ان سب باتوں کو تم برداشت نہ کرسکوگے۔ لیکن جب روحِ حق آئے گا تو تم کو سچائی کی راہ دکھائے گا۔روحِ حق اپنی طرف سے کچھ نہ کہے گا بلکہ وہی کہے گا جو وہ سنتا ہے وہ تمھیں وہی کہے گا جو کچھ ہونے والا ہے اور وہ میری (یعنی عیسی(اﷲ) کی بڑائی بیان کرے گا۔[16]

مندرجہ بالاآیت میں روحِ حق کا جو لفظ استعمال کیا گیا ہے یہ محمدۖ کے علاوہ کسی اور کی طرف اشارہ نہیں کرتی۔ کیونکہ محمدۖ کیلئے یہاں روح حقکا لفظ استعمال ہوا ہے۔اور محمدۖ کی صفات میں سے ایک صفت حقبھی ہے۔جو قرآن مجید میں موجود ہے۔مندرجہ بالاآیت میں یہ بھی کہا گیا کہ جب وہ آئے گا تو:
١) لوگوں کو سچائی کی راہ دکھائے گا۔
٢) جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کہے گا۔
٣) وہ عیسی کی بڑائی بیان کرے گا اور اسکا احترام کرے گا۔
ا - رسول اﷲ(ۖ)نے لوگوں کو سچائی کی راہ دکھائی اور وہ ہے اﷲتعالیٰ کی راہ۔
ب- رسول اﷲ(ۖ) نے جو کچھ سُنا وہی کہا اور اپنی خواھش سے کوئی بات نہیں کی۔قرآن میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ترجمہ: اور(نبیۖ) اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔نہیں ہے یہ کچھ اور مگر جو اسکو وحی کی جاتی ہے۔
د- رسول اﷲ(ۖ) نے کسی بھی بنی کے بارے میں کوئی غلط الفاظ استعمال نہیں کیے۔ وہ ہمیشہ اﷲتعالیٰ کی نبیوں کی تعریف کرتا تھا۔ اور دوسرے نبیوں کے ساتھ ساتھ محمدۖ نے عیسی کی بڑی تعریف کی ہے۔قرآن مجید میں بھی عیسی کی تعریف کئی جگہوں میں کی گئی ہے۔عیسی کو قرآن میںروح اﷲ کہاگیا ہے جسکے معنی ہے اﷲ تعالیٰ کی رحمت۔ اسکے علاوہ عیسی کو کلمتہ اﷲیعنی اﷲ تعالیٰ کا کلام، نبی اﷲیعنی اﷲ تعالیٰ کا نبی اور پیغمبر کے نام سے پکارا گیا ہے۔

یہودیوں کی کتابوں میں

یہودی، بائبل کے صرف عہد نامہ عییق (قدیم) پر یقین رکھتے ہیں۔

قرآن مجید فرماتا ہے کہ:
وہ لوگ جو ایسے رسولۖ،نبی اُمی(ان پڑھ) کی پیروی کرتے ہیں جن کو وہ اپنے ہاں تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔
محمدۖ کا ذکر کتابِ استثنا میں(Deuteronomy)
اﷲتعالیٰ موسی سے فرماتا ہے ڈیوٹرانمی(کتابِ استثنا) کے سورةنمبر ١٨ آیت ١٨ میں:
میں تمھارے بھائیوں کے درمیان میں سے ایک پیغمبر پیدا کرونگا،جو تمھاری (موسی) کی طرح ہوگا،اور میں اپنے الفاظ اسکے منہ میں ڈالوں گا اور وہ ان سے یہی کہے گا جو میں اسکوحکم دوں گا۔
عیسائی یہ دعویٰ کرتے ہے کہ یہ پیش گوئی عیسی کے بارے میں ہے کیونکہ عیسی موسی کی طرح تھے۔ موسی بھی یہودی تھے، عیسی بھی یہودی تھے۔موسی بھی پیغبر تھے اور عیسی بھی پیغمبر تھے۔اگراس پیش گوئی کو پورا کرنے کیلئے یہی دو اصول ہیں تو پھر بائبل میں ذکر کیے گئے تمام پیغمبرجوموسی کے بعد آئے مثلاً سلیمان،حِزقیل ،دانیال ، یحیٰ وغیرہ سب یہودی بھی تھے اور پیغمبر بھی حالانکہ یہ محمدۖ ہے جو موسی کی طرح ہے۔
١) دونوں یعنی موسی اور محمدۖ کے ماں باپ تھے جبکہ عیسیٰ معجزانہ طور پر مرد کے مداخلت کے بغیرپیدا ہوا تھا۔ 
٢) دونوں نے شادیاں کی اور ان کے بچے بھی تھے جبکہ بائبل کے مطابق عیسی نے شادی نہیں کی اورنہ ہی اُن کے بچے تھے۔
٣) دونوں فطرتی موت مرے۔جبکہ عیسیٰ کوزندہ اُٹھالیا گیا ہے
حضرت محمد ،حضرت موسٰی کے بھائیوں میں سے تھے۔عرب یہودیوں کے بھائی ہے۔ حضرت ابراہیم کے دو بیٹے تھے،حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق (Isaac)۔ عرب اسماعیل کے اولاد میں سے ہے اور یہودی اسحاق کے اولاد میں سے ہے۔
منہ میں الفاظ ڈالنا
حضرت محمدۖ اُمیّ یعنی ان پڑھ تھے اور جو کچھ وہ اﷲتعالیٰ سے جو کچھ وحی حاصل کرتے،وہ اِسے لفظ بہ لفظ دہرا دیتے۔ میں تمھارے بھائیوں کے درمیا ن میں سے ایک پیغمبر پیدا کروں گا،جو تمھاری (موسی) کی طرح ہوگا، اورمیں اپنے الفاظ اُسکے منہ میں ڈالوں گا اور وہ ان سے یہی کہے گا جیسے میں اُسکو حکم کرونگا۔
٢: ڈیوٹرانمی کی کتاب یہ درج ہے کہ:
جوکوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا، نہ سنے تو میں اُنکا حساب اُن سے لوں گا۔
محمدۖ کا ذکر (Isaiah) کی کتاب میں
اس کا ذکر(Isaiah) کی کتاب میں ہے کہ:
جب کتاب اس کو دی گئی جوکہ ان پڑھ ہے اور کہا کہ اسکو پڑھو میں تمھارے لیے دُعا کرونگا تو اس نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ 
جب جبرائیل نے محمدۖ سے کہا کہ پڑھ تو اس نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔
محمدۖ کا ذکر نام کے ساتھ
محمدۖ کا ذکر نام کے ساتھ سلیمان کی مناجات (songs of solomon) میں کیا گیا ہے۔
یہ ایک عبرانی حوالہ ہے جسکے معنی ہے:
وہ بہت میٹھا ہے،ہاں: وہ بہت پیارا ہے۔ یہ میرا محبوب ہے اور یہ میرا دوست ہے،اے یروشلم کے بیٹیوں
عبرانی زبان میں لفظ اِم احترام کیلئے بولا جاتا ہے۔مثلاً عبرانی زبان میں خُدا کواِلُکہاجاتا ہے۔لیکن احترام سے اسکواِلُ اِم'پڑھا جاتا ہے۔اسی طرح محمدۖ کے نام کے ساتھ بھی اِم کااضافہ کیا گیا ہے۔لیکن انگریزی میں اسکا ترجمہ لفظ پیارا سے کیا گیا ہے۔لیکن عبرانی زبان کے  (Old Testament) میں محمدۖ کا نام ابھی بھی موجود ہے۔
بدھ مت کی کتابوں میں
گوتم بدھ کی پیش گويی مایتریا بارے میں
بدھ مت کے تقریباً تمام کتابوں میں حضرت محمّد کی پیش گوئی کی گئی ہے.
چکاوتی سنهنادستّانتا میں پیش گوئی
دنیا میں ایک بدها مایتریّا (سخی) کے نام سے ظاهر هوگا، ایک مقدّس (انسان)، ایک عالی شان (انسان)، ایک روشن فکر،حکمت سے نوازه هوا انسان، مبارک (انسان) جو کائنات کو سمجهے گا.
جو کچه وه اپنے مافوق الفطرت علم سے سمجهے گا، وه پوری کائنات میں اسکا پرچار کر ے گا. وه مذهب کی تبلیغ کر ے گا، جو ابتدا، میں بهی عالی شان هوگی، اپنی عروج میں بهی عالی شان هوگی، اپنی مقصد میں بهی عالی شان هوگی ، روحانی اور علمی اعتبار سے.وه ایک مذهبی زندگی کی تشهیر کر ے گا، جومکمّل طور پر کامل اور خالص هو گی،جیسا که میں اب اپنے مذهب کی تشهیر کرتا هو اور اسی طرح کی زندگی کی دعوت دیتا هو. وه راهبوں کا ایک معاشره بنائے گا جس کی تعداد هزاروں میں هو گی جیسا که میں راهبوں کا ایک ایسے معاشرے کو برقرار رکهے هوئے هوں جس کی تعداد سینکڑوں میں هیں.
مشرق کی مقدّس کتب کی پیش گوئی
یه بتایا گیا که میں هی اکیلا بدها نهیں هوں، جس پر قیادت اور ضابطے کا انحصار هے.میرے بعد ایک اور بدها مایتری ا فلاں فلاں خصلتوں کے ساته آئے گا. اب میں سسنکروں (لوگوں) کا رهبر هو وه هزاروں کا رهبر اور راهنما هو گا
انجیل بدها کی پیش گوئی
انجیل بدها، کارس کے تصنیف کرده کے صفحه 218 –217 کے مطابق (جو سری لنکا کے منابع سے لیا گیا هے.)
انندا نے مبارک انسان سے فرمایا، آپ کے جانے کے بعد کون همیں تعلیم دے گا.اور مبارک انسان نے جواب دیا، میں پهلا بدها نهیں هوں جو روئے زمین پر آیا اور مناسب وقت میں ایک اور بدها روئے زمین میں ابهرے گا، ایک مقدّس (انسان)، ایک روشن فکر(انسان)، چال چلن میں حکمت سے نوازه هوا (انسان)،مبارک (انسان)، کائنات کو جاننے والا،انسانوں کا بے نظیر راهنما، فانی (مخلوق) اور فرشتوں کا آقا.وه آپ کے سامنے وهی ابدی حق آشکاره کرے گا،جس کی میں نے آپ کو تعلیم دی هے. وه اپنے مذهب کی تبلیغ کرے گا، جو اپنے ابتدا، میں بهی عالی شان هوگی، اپنے عروج میں بهی عالی شان هوگی، اپنے مقصد میں بهی عالی شان هوگی. وه ایک مذهبی زندگی کی تشهیر کرے گا، جو خالص اور کامل هو گی. جیسا که میں (اپنے مذهب) کی تشهیر کرتا هوں. اس کے شاگردوں کی تعداد هزاروں میں هو گی جبکه میرے (شاگردوں کی تعداد) سینکروں میں ہیں.
انندا نے کها، که هم اس کو کس طرح پهنچانے نگے؟
مبارک انسان نے جواب دیا، وه مایتریا کے نام سے جانا جائے گا.
 سنسکرت زبان کے لفظ "مایتریا" یا اس کا هم پلّه پالی زبان کا لغت "مے تیا" کے معنی هے ، پیار کرنے والا، رحمدل،نرمدل اور سخی (انسان). اس کے اور معانا بهی هیں مثلاٌ رحم کرنا اور دوستی ، همدردی وغیره. عربی زبان کا ایک لفظ جو ان سارے لفظوں کے برابر هے ، وه هے لفظ "رحمت".
قران مجید کے سوره الانبیا میں هے.
ترجمه: اور هم نے آپ کو تمام جهانوں کے لئے رحمت بنا کر بهیجا هے.
محمّد کو رحمت کها گیا جس کے معنی هے "مایتری".
حمت اور رحیم کے الفاظ قران کریم میں کم از کم 409 مرتبه آیا هیں.
 قران کریم کے هر سورۀ سوائے سورۀ نمبر 9 کے، اس خوبصورت کلئے سے شروع هوتی هیں.
بسم الله الرحمن الرحیم.
ترجمه: شروع الله کے نام سے جو برا مهربان نهایت رحم کرنے والا هے.
 لفظ محمّد دیگر الفاظ کے ساته مختلف طریقوں سے دنیا کے مختلف زبانوں میں کیا گیا هے مثلاٌ "محامت" یا "ماحومت" وغیره. لفظ "ماحو" یا "ماحا" پالی یا سنسکرت زبانوں میں عظیم اور عالی مرتبه کو کهتے هیں اور "متا" کے معنی هے، "رحمت". اس لئے "ما حومت" کے معنی هے "عظیم رحمت"
بدها کے جانثار خدمت گاران
مشرق کے مقدّس کتب کے جلد نمبر11 صفحه نمبر97 ماحا پاری نیانا ستّّا کے سورۀ نمبر 5 آیت 36 کے مطابق:
پهر مبارک انسان نے اپنی برادری سےخطاب کیا اور فرمایا، که جو کوئی بهی آراهت-بدها اس طویل عرصے میں گزرے ہیں.ان سب کے جابثارخدمت گارتهے ان مبارک انسانوں کے، جیسا که اننده میرا (خدمت) هے. اور جو کوئی بهی مستقبل کا آراهت بدها هوگا،تو ان مبارک انسانوں کی جانثار خدمت گار هونگے جیساکه اننده میرا (خدمت گار) ہے.
بدها کا خدمت گار انندا تها. محمّد کا بهی ایک خدمت گارتها جس کا نام حضرت انس تها.جو مالک کا بیٹا تها. حضرت انس کوان کے والدین نے محمّد کے سامنے پیش کیا. حضرت انس فرماتے ہے ، میری والده نے ان سے فرمایا،که اے الله کے رسول یہ هے آپ کا چهوٹا خادم.
حضرت انس فرماتے ہے ،که" میں نے آپ کی خدمت اس وقت سے کی جب میری عمر آتھ برس کی تهی. اور محمّد نےمجهے اپنا بیٹا اور اپنا چهوٹا محبوب کہا. حضرت انس اپنے زندگی کے اختتام تک پیغمبرکی ساته رهے چاهے زمانه امن یا زمانه جنگ. امن و امان میں یا خوف و خطر میں ہر وقت محمّد کے ساته رہا.
حضرت انس جنگ احد میں محمّد کی ساته رہے جس وقت محمّدکی زندگی بڑے خطرے میں تهی. اور آپ کی عمر اس وقت صرف گیاره (11) برس تهی.اور جنگ حنین میں بهی حضرت انس محمّد کے ساتھ رہے جب آپ کو تیر انداز دشمنوں نے گهیرا تها اور اس وقت آپ کی عمر صرف سوله (16) برس تهی. حضرت انس کو یقیناٌ انندا سے تشبیه دی جا سکتی ہے جو بدها کی ساته رها جب هاتهی نے اس پر حمله کیا تها.
بدها کو پہچانّے کے چھ اصول[

انجیل بدها، کارس کے تصنیف کرده کے مطابق:
مبارک (انسان) نے فرمایا،" دو ایسے مواقع هیں جس میں تاتهاگا، کا ظهور نہایت آشکارا اور روشن هو گا. اس رات جس میں تاتهاگا عالی شان اور اکمل بصیرت حاصل کرے گا. اور وه رات جس میں وه انتقال کرے گا، حد سے زیاده روشن هوگی. جس سے زمین میں (بدها) کی موجودگی مفقود هو جائے گی۔[28]
گوتهم بدھ کے مطابق بدها کو پهچاننے کے لئے مندرجه ذیل چه اصول ہیں۔
1) که بدها عالی شان اور اکمل بصیرت رات کے وقت حاصل کرےگا۔
2) وہ اپنے بصیرت کے اکملیت میں نہایت روشن ہونگے۔
3) بدھا فطری موت مرے گا۔
4) وہ رات کے وقت وفات پا ے گا۔
5) وہ اپنی موت سے پہلےنہایت روشن چہرے والاہوگا۔
6) اس کے انتقال کے بعد ‍زمین پر بدھا کی موجودگی مفقود ہو جائۓگی۔
محمّد نے عالی مرتبہ بصیرت اور پیغمبری رات کے وقت حاصل کی۔
ترجمہ: ہم نے اس(قران) کو شب قدر (طاقت کی رات) میں نازل (کرنا شروع) کیا۔

محمّد نے جلد ہی محسوس کیا کہ اس کی سمجھ کو آسمانی روشنی نے منوّر کیا۔ حضرت محمّد فطری موت مرے۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے مطابق،محمّد کا انتقال رات کے وقت ہوا۔ جب وہ وفات پارہے تھے تو دیّے میں تیل نہیں تھا اور حضرت عائشہ صدیقہ کو تیل قرض لینا پڑا۔ حضرت انس کے مطابق، محمّد اپنی وفات کی رات نہایت روشن معلوم ہوتے تھے۔ محمّد کی تدفین کے بعد، آپ کبھی بھی رو‏ئے زمین پر جسمانی حالت میں نہیں دیکھے گئے۔
بدھا صرف مبلّغ ہوتے ہیں

دھمّا پڈّا اور مشرق کے مقدّس کتب کے مطابق:
جاتھاگا (بدھا) صرف مبلّغ ہوتے ہیں۔
قرآن فرماتا ہے۔
ترجمہ: تو آپ نصیحت کرتے رہیے کہ آپ نصیحت کرنے والے ہی ہے۔ آپ ان پر داروغہ نہیں ہے۔
بدھا کے مطابق 'مایتریا' کی پہچان
دھمّا پڈّا اورماتایاستّا کے مطابق:
موعود (انسان) کے یہ (صفات) ہونگے۔
1) ساری مخلوقات کے لئے رحمت
2) امن کا پیغمبر
3) امن ساز
4) دین میں سب سے کامیاب ترین انسان
'مایتریا' اخلاق و اقدارکے مبلّغ کی حیثیت کے مطابق(مندرجہ ذیل صفات کا حامی ہوگا)
1) سچّا
2) خودّار
3) شریف اور عالی شان
4) غرور نہ کرنے والا
5) مخلوقات کے لئے باد‎شاہ
6) اپنے کلام اور اعمال میں دوسروں کے لئے نمونہ [32]

پارسی مت کی کتابوں میں محمدۖ کا ذکر

زند او ستا ميں محمّد صلی اللہ عليہ و سلم کا ذکر
اسکا ذکر ہے زند او ستا میں:
جسکا نام فاتح سوی شنت ہو گا اور جسکا نام استوت ايريٹا ہو گا ۔ وہ سوی شنت (رحم کرنے والا ) ہو گا کيونکہ وہ ساری مادی مخاوقات کے لیے رحمت ہو گا ۔ وہ استوت ۔ ايریٹا ( وہ جو عوام اور مادی مخلوقات کو سرخرو کرے گا) ہو گا ۔ کيونکہ خود مثل مادی مخلوقات اور زندہ انسان کے وہ مادی مخلوقات کی تباہی کے خلاف کھڑا ہو گا اور دو پاۓ مخلوق (يعنی انسان) کے نشے کے خلاف کھڑا ہو گا ۔ اور ايمان داروں ( بت پرست اور اس جيسے لوگ ، اور مجوسوں کے غلطيوں) گناہوں کے خلاف کھڑا ہو گا ۔
يہ پيش گوئی جتنی آپ صلی اللہ عليہ و سلم پر صادق آتی ہے کسی اور پر راست نہيں آتی ۔
آپ صلی اللہ عليہ و سلم نہ صرف فتح مکہ (کے روز) فاتح تھے بلکہ رحيم بھی تھے جبکہ اس نے اپنے خون کےپياسے دشمنوں کو يہ کہہ کر معاف کر ديا ، " آج آپ سے کوئی انتقام نہيں ليا جاۓ گا" ۔ سوی شنت کے معنی ہے ، تعريف کيا گيا۔ بحوالہ حيسٹنگ انسائی کلوپيڈيا، جسکا عربی ميں ترجمہ بنتا ہے،"محمّد صلی اللہ عليہ و سلم "۔
استوت ايریٹا لفظ استو سے اخذ کيا گيا ہے جسکا سنسکرت اور زندی زبانوں ميں معنی ہے تعريف کرنا ۔ اور موجودہ فارسی زبان ميں فعل 'ستودن' تعريف کرنے کو کہتے ہے ۔ اسکو فارسی کے لفظ ايستادن سے بھی اخذ کيا جاسکتا ہے جسکے معنی ہے،کھڑا ہونا ۔ اس ليے استوت ايریٹا کے معنی ہے ، وہ جسکی تعريف کی گئی ہو ۔ جو کہ ہو بہو عربی لغت احمد صلی اللہ عليہ و سلم کا ترجمہ ہے جو آپ صلی اللہ عليہ و سلم کا دوسرا نام ہے ۔ (لہذا) يہ پيش گوئی آپ صلی اللہ عليہ و سلم کے دونوں ناموں کی نشاندہی کرتی ہيں جو کہ ہيں محمّد صلی اللہ عليہ و سلم اور احمد صلی اللہ عليہ و سلم ۔ يہ پيش گوئی مزيد يہ کہتی ہے کہ وہ مادی دنيا کے لیے رحمت ہو گا ۔ اور قران اس بات کی گواہی ديتا ہے سورۃ الانبياء سورۃ نمبر 21 آيت 107:
ہم نے آپ کو پوری انسانيت کے لیے رحمت بنا کر بھيجا ہے ۔
پيغمبر صلی اللہ عليہ و سلم کے صحابہ کا تقدس
زند او ستا کے زمياد ياشت میں درج ہے کہ:
اور اس کے دوست (صحابہ) سامنے آيۓ نگے ، استوت ايریٹا کے دوست ، جو کہ شيطان کو ہرانے والے ، اچھی سوچ رکھنے والے ، اچھا بولنے والے ، اچھے اعمال والے ، اور اچھی قانون کی پابندی کرنے والے اور جنکی زبانيں باطل و جھوٹ کا ايک حرف بھی بولنے کے لیے کبھی بھی نہيں کھولی ۔
يہاں بھی آپ صلی اللہ عليہ و سلم کا استوت ايریٹا کے نام سے ذکر کيا گيا ہے ۔ يہاں پيغمبر صلی اللہ عليہ و سلم کے دوستوں کا ذکر مثل ہم نواوؤں کے کيا گيا ہيں جو باطل کے خلاف لڑے نگے ۔ جو کہ بہت نيک اور مقدس بندے ہو نگے جو اچھے اخلاق رکھتے ہو نگے اور ہميشہ سچ بولے نگے ۔ يہ صحابہ کے لیے ايک واضح حوالہ ہے جو آپ صلی اللہ عليہ و سلم کے دوست ہيں ۔

دساتير ميں محّمد صلی اللہ عليہ و سلم کا ذکر

دساتير ميں ذکر کۓ گۓ پيش گوئی کا خلاصہ اور لب لباب يہ ہے کہ زرتشتی لوگ اپنے مذہب کو ترک کر ديں نگے اور بدکار ہو جا ينگے تو (سرزمين) عرب ميں ايک شخص نمودار ہو گا ، جنکے پیروکار فارس کو فتح کر لينگے اور جاہل فارسی لوگوں کو مغلوب کر دينگے ۔ اپنے عبادت خانوں ميں وہ آگ کی پرتش کی بجاۓ کعبہ ابراھيم کی طرف منہ کر کے عبادت کر ينگے ۔ جو کہ سارے بتوں سے پاک کيا جاۓ گا ۔ یہ (پيغمبر عربی صلی اللہ عليہ و سلم کے صحابہ) ساری دنیا کے لیے رحمت ہو ںگے ۔ يہ فارس ، مدين ، توس ، بلخ ، زرتشتی قوم کے مقدس مقامات اور آس پاس کے علاقوں کے آقا بنے نگے ۔ ان کا پيغمبر ايک بليغ انسان ہو گا جو معجزاتی باتيں کر يگا ۔ يہ پيش گوئی آپ صلی اللہ عليہ و سلم کے سوا کسی دوسرے کی طرف اشارہ نہيں کرتی ۔
محّمد صلی اللہ عليہ و سلم آخری پيغمبر ہو نگے
اسکا ذکر بنداحش کی کتاب ميں کيا گیا ہيں کہ سوی شنت آخری پيغمبر ہو گا ۔
جسکا مطلب يہ ہے کہ محمّد صلی اللہ عليہ و سلم آخری پيغمبر ہو گا ۔ قرآن ، سورۃ احزاب ميں اسکی تصديق کرتی ہيں ۔
ترجمہ: محمّد تمھارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبراور نبیوں (کی نبوت) کی مہر( یعنی اس کو ختم کر دینے والے) ہیں اور ‍خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
ہندومت کی کتابوں میں محمّد کا ذکر
حضرت محمّد صلی اللھ علیھ وآلھ وسلّم' کا ذکر بڑے تفصیل کے ساتھ ہندو مت کی کتابوں میں کیا گیا ہے۔ آپ کا ذکر ہندو مت کی مقدس کتابوں میں کیا گیا ہے۔ آپ کا ذکران کی مقدس کتب بھگودگیتا، وید اور اُپنشد وغیرہ میں کیا گیا ہیں۔
رگ وید میں محمّد کا ذکر
حضرت محمّد کا ذکر رگ وید میں کیا گیا ہے، اور آپ کا نام سوشارما بتایا گیا ہے۔ اور سوشارما سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہے ، تعریف کیا گیا (شخص)۔ اور عربی میں اس کا مطلب بنتا ہے ، محمّد۔
حوالہ جات
^ مذاہبِ عالم میں حضرت محمّد کا ذکر، مصنّف : ڈاکٹر ذاکر نائیک، صفحہ 7
^ بائبل میں حضرت محمّد کا ذکر، مصنّف : شیخ احمد دیدات، صفحہ 33
^ 3.0 3.1 القرآن ، سورة اعراف سورہ نمبر٧ آیت ١٥٧
^ 4.0 4.1 بائبل ، ڈیوٹرانمی(کتابِ استثنا) ، سورةنمبر ١٨ آیت ١٨
^ 5.0 5.1 بائبل ، متیٰ (Methew)، سورة ١ ، آیت ١٨
^ بائبل ، لوقا (Luke) ،سورة١ ، آیت ٣٥
^ 7.0 7.1 القرآن ، سورة ٣ ، آیات ٤٧-٤٢
^ 8.0 8.1 القرآن ، سورة ٤ ، آیات ١٥٨-١٥٧
^ بائبل ، ڈیوٹرانومی(Deuteronomy) سورة١٨آیت ١٨
^ بائبل ، ڈیوٹرانمی(کتابِ استثنا) ، سورةنمبر ١٨ آیت ١٩
^ بائبل ، (Isaiah) کی کتاب ، سورة ٢٩ آیت ١٢
^ القرآن ، سورة الصف سورة ٦١ آیت ٦
^ بائبل ، یوحنا(John)کی کتاب سورة ١٤ آیت ١٦
^ بائبل ، یوحنا(John) کی کتاب سورة ١٥ آیت ٢٦
^ بائبل ، یوحَنّا(John) کی کتاب سورة ١٦ آیت ٧
^ بائبل ، یوحنا (John) کی انجیل سورة ١٦ آیات١٤-١٢
^ بائبل ، لوقا (Luke) ،سورة١ ، آیت ٣٥
^ بائبل ، ڈیوٹرانومی(Deuteronomy) سورة١٨آیت ١٨
^ بائبل ، ڈیوٹرانمی(کتابِ استثنا) ، سورةنمبر ١٨ آیت ١٩
^ بائبل ، (Isaiah) کی کتاب ، سورة ٢٩ آیت ١٢
^ بائبل ، سلیمان کی مناجات (songs of solomon) ، سورة ٥، آیت ١٦
^ چکاوتی سنهنادستّانتا کی سوره 3 آیت 76
^ مشرق کی مقدّس کتب ، جلد نمبر 35، صفحه نمبر 225
^ انجیل بدها، تصنیف : کارس ،صفحات 218 –217
^ القران ، سورۀ نمبر 21 آیت 107
^ مشرق کے مقدّس کتب ، جلد نمبر11 ، صفحه نمبر 97
^ ماحا پاری نیانا ستّّا ، سورۀ نمبر 5 ، آیت 36
^ انجیل بدها، تصنیف : کارس ،صفحه 214
^ القران ، سورۃ القدر 1:97
^ مشرق کے مقدّس کتب ، جلد نمبر10 ، صفحه نمبر 67
^ القران ، سورۃ الغاشیّہ 88: 21 -22
^ ماتایاستّا ، صفحہ 151
^ زند او ستا ، فرور دين یاشت ، سورۃ 28 آيت 129
^ مشرق کی کتب مقدسہ ، جلد 23، زند او ستا حصّہ دوم صفحہ 220
^ القرآن، سورۃ الانبياء سورۃ نمبر 21 آيت 107
^ مشرق کی کتب مقدسہ ، جلد 23، زند او ستا حصہ دوم صفحہ 308
^ زند او ستا ، زمياد ياشت ، سورۃ نمبر 16 آيت 95
^ بنداحش، سورۃ نمبر 30 ، آيات 27-6
^ القرآن، سورۃ نمبر 33 آيت 40
^ مذاہبِ عالم میں حضرت محمّد کا ذکر، مصنّف : ڈاکٹر ذاکر نائیک، صفحہ 129
^ رگ وید کی پہلی کتاب ، ہیم 53، آیت 9

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

No comments:

Post a Comment