Search Papers On This Blog. Just Write The Name Of The Course

Wednesday, 5 August 2015

))))Vu & Company(((( وہ جو خواب تھے جو خیال تھے



وہ جو خواب تھے جو خیال تھے
 وہی دھڑکنوں سے جدا ہوئے

مری زندگی کا سوال تھے
 وہی دھڑکنوں سے جدا ہوئے

مری شامِ غم کا خمار بھی
 مری رہگزر کا وہ نور تھے
سبھی موسموں کا جمال تھے
 وہی دھڑکنوں سے جدا ہوئے

یہ سراب جیسی رفاقتیں
 مری پیاس کو نہ کریں گی کم

مرا ہجر تھے جو وصال تھے
 وہی دھڑکنوں سے جدا ہوئے

جو گواہ تھے مری چاہ کے
 یہ خبر نہیں وہ کہاں گئے

مری دھڑکنوں کا جو حال تھے
 وہی دھڑکنوں سے جدا ہوئے

جو بچھڑ گئے کسی راہ میں
 وہی منزلوں کا نشان تھے

وہ جو آپ اپنی مثال تھے
 وہی دھڑکنوں سے جدا ہوئے

مری دھڑکنیں نہ رہیں اگر
 تو بھی زیستؔ کوئی گلہ نہیں

مرے سانس جن سے بحال تھے
 وہی دھڑکنوں سے جدا ہوئے

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

No comments:

Post a Comment