عمران خان کا المیّہ
عمران خان صاحب آپ نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے۔ مجھے یا د ہے بیس سال پہلے آپ جس سوچ اور نظرئیے کو جتنی امیچﺅریٹی کے ساتھ لے کے چلے تھے وہ آج تک اسی طرح اپنی پوری آب و تاب کیساتھ موجود ہے۔ بلکہ کہیں کہیں تو اس میں بے پناہ اضافہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ لڑنے چلے ہیں دنیا بھر کے تلنگوں کیساتھ اور ٹیم بنا لی آپ نے ذہنی پتنگوں کی ۔
دنیا میں حکومتوں کا بننا بگڑنا سرمائے کے خوفناک دھندے کے ارد گرد گھومنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ بدنصیبی کہ حقیقی اسلامی نظام حضرت عمر ؓکے دور کے بعد بدکرداروں کے دلوں میں ایسا خوف بٹھا کے گیا کہ انہوں نے موت قبول کرلی ،نظام قبول نہیں کیا۔ سوشل ازم کے ڈسے ہوو¿ں نے اسے دنیا بھر سے ختم کردیا ۔ لیکن منافع پرست آج بھی اس منصفانہ معاشی نظام کے نام تک سے لرزہ براندام ہیں۔ چلو اگر کیپیٹلزم اپنی بنیادی اور حقیقی شکل میں ہی رہ گیا ہوتا تو شاید عام آدمی کی زندگی اتنی اجیرن نہ ہوتی جتنی پیسے کی دوڑ کے اس گھناو¿نے کھیل نے بنا دی ہے۔ عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ وہ آج تک کھلے دل سے انسانوں کے حقوق کو غصب کرنے والے اس ظالمانہ نظام کو چیلنج نہیں کرسکے۔ایک مقبول اور لڑاکا کھلاڑی سے سیاسی لیڈر کے سفر میں وہ اس خونخوار کلاس کے سامنے کھڑا ہو کر اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے دیکھنے کی جرا¿ت تک نہیں کرسکے۔ لبرل ہوئے تو میانوالی کی اور پٹھان قبیلے کی ویلیوز سے باہر نہ آسکے ، بار بار جماعت اسلامی کے پیچھے دوڑے تو کلب ڈانسر سے بیاہ رچانے سے خود کو روکنے میں ناکام رہے۔ لے دے کے کبھی کرپشن کے خاتمے کو تو کبھی انصاف کے آسان حصول کی چھوٹی چھوٹی اور گندی مندی"نعریاں" لگا کے نیا پاکستان بنانے چل پڑے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی بھوت سے لڑنے کے لیے کوئی چھوٹے چھوٹے بندروں کے کان میں تیلے مار کر یہ کہے کہ اب دیکھنا بھوت کیسے آگے لگ کے بھاگتا ہے۔
عمران خان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے زرداری ، نواز شریف یا الطاف حسین ہی اصل بیماری کی جڑ ہیں۔ ہر گز ایسا نہیں ہے بلکہ یہ تو سڑے بسے سرمایہ دارانہ نظام کے چھوٹے موٹے کارندے ہیں۔ الطاف حسین نہیں ھوگا تو کوئی اور آجائے گا۔ اسی طرح نواز شریف کے بعد اس کی جگہ کوئی اور اس سے بھی زیادہ چوکس آدمی آجائے گا ۔ اور ظلم و استبداد کا سلسلہ کبھی رکے گا نہیں۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج عمران خان اسی کمینے نظام کا حصہ رہ کر بر سر اقتدار آجائیں ، کتنے نواز شریف اور زرداری اس کے اندر سے نکلیں گے۔ سو لوگوں کو ٹرک کی بتی پیچھے لگا لگا کے بے دم کروانے کہ علاوہ خان صاحب سے اور کچھ نہیں ہو سکے گا۔ سوائے اس کہ انکی سیاست کچھ لوگوں کی تفریح طبع کا سامان بنی ہوئی ہے اور خود انہیں اس کا ادراک تک نہیں ہورہا۔انہیں سیاست اور جمہوریت میں خرابی پیدا کرنے والے ناسور کاعلاج کروانا چاہئے۔ شوکت خانم ہسپتال سے اسکاعلاج نہیں ہوسکتا۔یہ ناسور ناقابل علاج ہے لیکن اسکا ہر گز یہ مقصد نہیں ہوسکتا کہ ناسور بگڑا ہوا ہے تو علاج ترک کردینا چاہئے،بیماری سے لڑنا چاہئے۔علاج بھی کرنا چاہئے لیکن اسکا علاج کیسے ہوسکتا ہے ،اس پر غور کرنا ہوگا۔شوکت خانم بنا لیا،اچھا کیا،نیک کام کیا،لیکن نیک کرکے دریا برد بھی تو کردیں۔وہاں تو متوسط طبقہ اور سفید پوش بھی علاج نہیں کراسکتا۔اگر علاج کروانا ہوتو لکھ کر اسکی غیرت کا بھرم توڑناپڑتا ہے کہ مجھ پر زکٰوة لاگو ہوتی ہے۔ عمران خان نے بہت اچھا کام کیا تھا ہسپتال بنا کر ،اب تو ایدھی بھی نہیں رہے،وہ ایک جگہ ٹکے رہے اور قوم کا مسیحا بن کر عزت پائی۔عمران خان سکول کالجز اور مزید ہسپتال بناتے،کھیلوں کو فروغ دیتے تونیا پاکستان بن سکتا تھا ۔ان کا یہ خواب کم ازکم ادھورا نہ رہتا۔
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

No comments:
Post a Comment