سیاہ شگاف (Black hole)ستارے کی زِندگی کے دوران اُسے جن مراحل سے سابقہ پڑتا ہے اُن میں سب سے پراَسرار سیاہ شگاف (black hole) ہے۔ سیاہ شگاف اِتنی بے پناہ کشش کے حامل ہوتے ہیں کہ روشنی سمیت کوئی شے اُن کی کشش سے بچ نہیں پاتی۔ عام ستاروں کو ہم اِس لئے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ روشنی کا اِخراج کرتے ہیں اور 'بلیک ہول' سے روشنی کے ہماری سمت نہ آ سکنے کی وجہ سے وہ ہماری نظروں سے مستقلاً اوجھل ہوتے ہیں۔ اِسی لئے اُنہیں 'سیاہ شگاف' (black hole) کا نام دیا گیا ہے۔ اِس وقت ہماری کائنات کا کافی زیادہ مادّہ پہلے سے اُن سیاہ شگافوں میں کھو چکا ہے۔ 'بلیک ہول' بڑے ستاروں کی زِندگی کے خاتمے پر روشن سپرنووا کے پھٹنے کی صورت میں رُونما ہوتے ہیں۔ ایسے ستاروں کا کثیف مرکزہ (dense core) دھماکے کے بعد اپنی ہی کششِ ثقل کے باعث اندرونی اِنہدام کو جاری رکھتا ہے تآنکہ وہ سیاہ شگاف کی صورت میں فنا ہو جاتا ہے اور پھر روشنی بھی اُس سے بچ کر نہیں نکل سکتی۔ عظیم سائنسدان 'سٹیفن ہاکنگ' کے مطابق کچھ ماہرینِ تخلیقیات (cosmologists) کا خیال ہے کہ سیاہ شگاف عظیم منہ بند سوراخ کی طرح اپنا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے ذریعے مادّہ ہماری کائنات سے کسی اور کائنات کی طرف جا نکلتا ہے۔ سیاہ شگاف فزکس کے قوانین پر عمل کرتے دِکھائی نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ اُنہیں سمجھنا نہایت دُشوار ہے۔ اوپن ہائمر (Oppenheimer) کی برس ہا برس کی تحقیقات سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ''بلیک ہول کا مقناطیسی میدان کسی بھی مکان-زمان میں پائی جانے والی شعاعوں کا راستہ بدل دیتا ہے اور روشنی کی کرنیں سیاہ شگاف کے قریب آہستگی سے اندر کو مڑ جاتی ہیں''۔ سورج گرھن کے دوران دُور واقع ستاروں کی طرف سے آنے والی روشنی کے جھکاؤ میں اِس اَمر کا بخوبی مُشاہدہ کیا گیا ہے۔ جوں جوں مرتا ہوا ستارہ سُکڑتا چلا جاتا ہے اُس کا مِقناطیسی میدان طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے اور روشنی کی مخروطی شکلیں مزید اندر کو جھکنے لگ جاتی ہیں، جس کے باعث روشنی کے لئے اُس سے فرار اِختیار کرنا دُشوار ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک مرتا ہوا ستارہ اپنی اصل جسامت سے لاکھوں گنا چھوٹا ہو جاتا ہے مگر اُس کی کمیّت میں کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اِنتہائی طاقتور ہو جاتا ہیں اور اُس کی قوتِ کشش بے پناہ بڑھ جاتی ہے۔ آخرکار جب ستارہ اپنے کم سے کم ممکنہ رداس کی حد تک سکڑ جاتا ہے تو اُس کی سطح کے مِقناطیسی میدان میں اِتنی طاقت آ جاتی ہے کہ وہ روشنی کے فرار کے تمام راستے مسدُود کر دیتا ہے۔ نظریۂ اِضافیت (Theory of Relativity) کے مطابق کوئی مادّی چیز روشنی سے تیز رفتار کے ساتھ سفر نہیں کر سکتی۔ اِس لئے روشنی کے سیاہ شگاف سے نہ بچ سکنے کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی شے اُس سے نہیں بچ سکے گی اور اُس کا مِقناطیسی میدان اپنی زد میں آنے والی ہر شے کو اپنی جانب گھسیٹ لیتا ہے۔
ہم زمین پر رہتے ہوئے یہ خیال کرنے سے قاصر ہیں کہ ہم میں سے کوئی اِنسان سیاہ شگاف کے مُشاہدے کے لئے خلائی گاڑی کی مدد سے اُڑ کر اُس کے قریب جائے اور صحیح سلامت بچ کر واپس بھی آ جائے۔ یہی وہ مقام ہے جسے بلیک ہول کہتے ہیں اور یہ وہ مقام ہے جہاں اِس سے قبل کوئی بڑا ستارہ موجود تھا۔ قرآنِ مجید میں اللہ ربّ العزت نے مرے ہوئے ستارے کے اُس مقام کی اہمیت کے پیش نظر اُس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا : فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِO وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌO (الواقعه، 56 : 75 - 76) پس میں ستاروں کے مقامات کی قسم کھاتا ہوںo اور اگر تم جان لو تو یہ بہت بڑی (چیز کی) قسم ہےo ستاروں کے مقامات جو اُن کی موت کے بعد سیاہ شگافوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، سماوِی کائنات کے باب میں قواسرز (quasars) کے بعد سب سے زیادہ پُراسرار ہیں، کیونکہ وہ ایسے مقام ہیں جہاں سے روشنی سمیت کوئی شے فرار نہیں ہو سکتی اور اُن کی کیفیت و ماہیت فزکس کے قوانین کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے مسلمان قارئین کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیاہ شگاف کسی دُوسری کائنات کو جانے والی گزرگاہ کا کام دیتے ہیں اور اُن میں گرنے والا مادّہ مکان-زمان کے کسی اور منطقے میں بھیج دیا جاتا ہے۔ وہ دُوسری کائنات کون سی ہے؟ اور کہاں ہے؟ اُس کی ماہیت کیا ہے؟ کیا بلیک ہول سے گزرے بغیر اُس کائنات تک پہنچا جا سکتا ہے؟ یہ اور اِن جیسے بے شمار سوالوں کا جواب فزکس کے موجودہ قوانین کی رُو سے محال ہے۔ اِسی لئے اللہ ربّ العزت نے ستاروں کے اُن مقامات 'سیاہ شگافوں' کی قسم کھاتے ہوئے اِرشاد فرمایا کہ اگر بنی نوع اِنسان کا شعور اِس قدر پختہ ہو کہ اُن بلیک ہولز کی حقیقت کو جان لے تب اُسے پتہ چلے گا کہ یہاں کتنی عظیم شے کی قسم کھائی جا رہی ہے۔ (بلیک ہولز کے بارے میں مزید مطالعہ کے لئے 'سیاہ شگاف کا نظریہ اور قرآنی صداقت' نامی باب کا مطالعہ کریں) دُمدار تارے (Comets)ہمارے نظامِ شمسی کے اندر 9 بڑے سیاروں، اُن کے چاندوں اور سیارچوں کے علاوہ کچھ ایسے اَجرام بھی پائے جاتے ہیں جو برس ہا برس ہماری آنکھوں سے اوجھل رہنے کے بعد اپنے مقررہ وقت پر چند روز کے لئے ظاہر ہوتے ہیں اور بعد ازاں پھر اپنے طوِیل مدار پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ اُنہیں دُمدار تاروں (comets) کا نام دیا جاتا ہے۔ سورج کے گرد اُن کا مدار اِنتہائی بیضوِی ہوتا ہے۔ وہ برف سے بنے بڑے بڑے گولے ہوتے ہیں، عام طور پر اُنہیں 'گرد آلود برف کے گولے' بھی کہا جاتا ہے۔ جوں جوں کوئی دُمدار تارہ سورج کے قریب آتا چلا جاتا ہے اُس کا مرکزہ بخارات پر مشتمل روشن دُم بنانے لگتا ہے، جو ہمیشہ سورج کی مخالف سمت میں چمکتی ہوئی دِکھائی دیتی ہے۔ بعض دفعہ چند کلومیٹر قطر کے دُمدار تارے کی دُم کئی لاکھ کلومیٹرز تک طوِیل ہوتی ہے۔
سورۂ تکویر میں اللہ ربّ العزت نے دُمدار تارے کی اِس اہمیت کے پیشِ نظر اُس کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا : فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِO الْجَوَارِ الْكُنَّسِO (التکوير، 81 : 15، 16) تو میں قسم کھاتا ہوں اُن (اَجرامِ فلکی) کی جو (ظاہر ہونے کے بعد) پیچھے ہٹ جاتے ہیںo جو بلا روک ٹوک چلتے رہتے ہیں، (پھر ظاہر ہو کر) چھپ جاتے ہیںo
سورج سے ڈیڑھ نوری سال کی مسافت پر بہت بڑا سحابیہ سورج کے گرد محوِگردش ہے، جسے اُوورٹ بادل (Oort Cloud) کہا جاتا ہے۔ سورج کی طرف آنے والے دُمدار تارے وہیں پیدا ہوتے ہیں۔ سورج سے متعلقہ سب سے معروف دُمدار تارہ 'ہیلے کا دُمدار تارہ' ہے، جو اپنے بہت زیادہ بیضوی مدار کی وجہ سے ہر 76 سال بعد منظرِ عام پر آتا ہے۔ برطانوی ماہر فلکیات 'ایڈمنڈ ہیلے' (Edmund Halley) نے اُسے 1682ء میں دیکھا اور پیشنگوئی کی کہ یہ 76 سال بعد 1758ء میں دوبارہ نظر آئے گا، چنانچہ اُس کے اعدادوشمار صحیح نکلے اور وہ 1758ء میں ہی نظر آیا۔ آخری بار وہ 6 فروری 1986ء کو سورج کے قریب آیا تھا۔ اُن دنوں بہت سے خلائی جہاز (probs) ریسرچ کی غرض سے اُس کی طرف بھیجے گئے۔ یورپین سپیس ایجنسی (ESA) کے خلائی جہاز Giotto نے اُس کے اِنتہائی قریب جا کر اُس کی تصاویر بنائیں اور اہلِ زمین کو اِرسال کیں، جن کی بدولت ہم دُمدار تاروں اور بالخصوص ہیلے کے دُمدار تارے کی ساخت کو سمجھنے کے قابل ہوئے۔ 'ہیلے کا دُمدار تارہ' اب دوبارہ اِن شاء اللہ 29 اپریل 2061ء کے روز سورج کے قریب سے گزرے گا۔
قرآنِ مجید میں دُمدار تاروں کو ''اَلْخُنَّس'' اور ''اَلْجَوَارُ الْکُنَّس'' کے لفظوں میں اِس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کبھی ظاہر ہوتے ہیں اور پھر عرصۂ دراز کے لئے چھپ جاتے ہے۔ صاحبِ قاموس المحیط لکھتے ہیں : الکنّس : هی الخنّس، لأنّها تکنس في المغيبِ. (القاموس المحيط، 2 : 256) ''الکنس'' کا معنی چھپنا اور گم ہو جانا ہے۔ وجہِ تسمیہ اُس کی یہ ہے کہ وہ comet (طویل عرصے کے لئے) کسی نادِیدہ مقام میں کھو جاتا ہے۔ سورج (The Sun)سورج۔ ۔ ۔ جو ہماری زمین کے لئے روشنی اور حرارت کا سب سے بڑا منبع ہے اور جس کے بغیر کرۂ ارضی پر نباتاتی، حیوانی یا اِنسانی کسی قسم کی زِندگی کا کوئی تصوّر ممکن ہی نہ تھا۔ ۔ ۔ دراصل وہ معمولی درجے کا ایک ستارہ ہے۔ سورج چونکہ باقی ستاروں کی نسبت ہم سے بہت زیادہ قریب واقع ہے اِس لئے وہ ہمیں بہت بڑا اور گرم دِکھائی دیتا ہے اور دِن کو اُس کی کرۂ ارضی پر چھا جانے والی روشنی میں دُور دراز کے ستارے نظر آنا بالکل بند کر دیتے ہیں۔
سورج کی روشنی ہمارے لئے زِندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اِرشادِ باری تعالی ہے : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً. (يونس، 10 : 5) وُہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا۔ ایک اور مقام پر فرمایا : وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًاO (نوح، 71 : 16) اور سورج کو (ایک روشن) چراغ بنایا ہےo سورج کی روشنی کا باعث اُس کے اندر ہونے والے شدید ایٹمی دھماکے ہیں۔ سورج عام طور پر ہائیڈروجن اور ہیلئم پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں نہایت لطیف گیسیں ہیں۔ سورج کے مرکز میں ایک بڑا نیو کلیائی ری ایکٹر ہے جس کا درجۂ حرارت کم از کم 1,40,00,000 سینٹی گریڈ (2,50,00,000 فارن ہائیٹ) ہے۔ سورج نیوکلیئرفیوژن کے ذریعے توانائی کا یہ عظیم ذخیرہ پیدا کرتا ہے۔ اُس نیوکلیائی عمل کے دوران اُس میں موجود ہائیڈروجن ہیلئم میں تبدیل ہوتی چلی جا رہی ہے، جس سے روشنی اور حرارت کی صورت میں شدید توانائی کا اِخراج عمل میں آتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ ربّ العزت نے نیوکلیئرفیوژن کے ذریعے پیدا ہونے والی اُس شدید حرارت کا ذِکر یوں فرمایا ہے : وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًاO (النباء، 78 : 13) اور ہم نے (سورج کو) روشنی اور حرارت کا (زبردست) منبع بنایاo اِتنے عظیم درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے کے لئے سورج 40,00,000 ٹن فی سیکنڈ کی شرح سے توانائی کی صورت میں اپنی کمیّت کا اِخراج کر رہا ہے۔
گردشِ آفتاباِنسانی زندگی کی قدیم تاریخ میں سورج کو بالعموم زمین کے گرد محوِگردش خیال کیا جاتا تھا۔ فیثا غورث نے تاریخِ علوم میں پہلی بار یہ نظریہ پیش کیا کہ زمین سورج کے گرد گردِش کرتی ہے۔ بعد ازاں کوپر نیکس سے پہلے ایک نامور مسلمان سائنسدان 'زرقالی' نے بھی 1080ء میں زمین کی سورج کے گرد گردِش کا نظریہ پیش کیا۔ سورج اور زمین کی گردِش کے بارے میں مختلف نظریات الگ باب ''سائنسی طریقِ کار اور اِقدام و خطاء کا تصوّر'' میں ملاحظہ کئے جا سکتے ہیں۔ یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ سائنسی علوم کی تاریخ میں یہ جھگڑا ہمیشہ سے برقرار رہا ہے کہ سورج ساکن ہے اور زمین سورج کے گرد گردِش کرتی ہے یا زمین ساکن ہے اور سورج زمین کے گرد گردش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمین سورج کے گرد محوِ گردش ہے اور سورج بھی ساکن نہیں ہے جیسا کہ قدیم نظریات میں خیال کیا جاتا تھا۔ ہماری کہکشاں ملکی وے (Milky Way) دراصل ایک چکردار کہکشاں ہے۔ اُس کے چار بازو ہیں جن میں واقع کروڑوں ستارے کہکشاں کے مرکز کے گرد گردِش کر رہے ہیں۔ سورج بھی اپنے ساتھی ستاروں کی طرح کہکشاں کے مرکز سے 30,000 نوری سال کے فاصلے پر ''اورِین آرم'' (Orion Arm) میں واقع ہے اور کہکشاں کے مرکز کے گرد 22,00,00,000 سال میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔
سورج کی اِس گردِش کو اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید میں یوں بیان کیا ہے، فرمایا : وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِO (يسين، 36 : 38) اور سورج اپنے لئے مقرر کردہ راستے پر چلتا ہے، یہ (راستہ) غالب علم والے (اللہ) کا مقرر کردہ ہےo شمسی تقوِیم (Solar calendar)سورج ہمارے لئے وقت کی پیمائش کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔ دِنوں اور سالوں کا تعین و شمار کرنا اُسی کے ذرِیعے ممکن ہے۔ زمین سورج کے گرد اپنا ایک چکر 365 دن، 5 گھنٹے، 48 منٹ اور 47.4624 سیکنڈ میں پورا کرتی ہے۔ شمسی سال کی اصل طوالت بعینہ یہی ہے۔ عام سال چونکہ 365 دِنوں کا ہوتا ہے اِس لئے بچ رہنے والے گھنٹوں کو پورا کرنے کے لئے ہر چوتھے سال کو لیپ کا سال قرار دے کر اُس میں ایک دِن کا اِضافہ کر کے 366 دِن بنا لئے جاتے ہیں، جس سے 'معیاری سال' میں چند منٹوں کا اِضافہ ہو جاتا ہے جسے کامل دِنوں کی صورت میں پورا کرنے کے لئے 4,000 سال بعد تک بھی دِنوں میں کمی و بیشی کرنا پڑے گی۔ سال کی صورت میں وقت کی پیمائش کا ایک ہی بہترین ذرِیعہ 'سورج' ہے، جو ایک طرف ماہرینِ فلکیات کے لئے اَجرامِ فلکی کے ظہور و خفا کا تعین کرنے میں مُمِد ہوتا ہے تو دُوسری طرف ایک گنوار کسان کو موسموں کے تغیر و تبدل اور فصلوں کی بوائی و کٹائی کے موزوں وقت سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ سورج کی طرح چاند بھی قمری تقوِیم کے تعین اور مہینوں کے شمار کا سادہ اور فطری ذریعہ ہے۔ اللہ ربّ العزت نے سورج اور چاند دونوں کو وقت کی پیمائش کا ذرِیعہ بنایا۔ اِس سلسلے میں اِرشادِ ایزدی ہے : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍO (الرحمن، 55 : 5) سورج اور چاند معلوم اور مقررّہ (فلکیاتی) حسابات کے مطابق (محوِ حرکت) ہیںo سورج سمیت تمام ستاروں میں ہائیڈروجن اور ہیلئم کی ایک بڑی مقدار موجود ہے، جو جلتے ہوئے روشنی اور حرارت خارِج کرتی ہے۔ کسی ستارے کا اِیندھن جل کر ختم ہو جاتا ہے تو وہ 'سرخ ضخام' (red giant) کی صورت میں پھول جاتا ہے، جس کے بعد وہ بتدرِیج سُکڑنے اور ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ مکمل بے نور ہو جاتا ہے۔ سورج کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو گا۔ سورج ستاروں کے جس قبیل سے تعلق رکھتا ہے اُس حساب سے اُس کی کل عمر 9 ارب سال کے لگ بھگ ہے، جس میں سے ساڑھے چار ارب سال وہ گزار چکا ہے، گویا وہ عہدِ شباب میں ہے۔ آج سے ساڑھے چار ارب سال بعد جب اُس کا اِیندھن جل جل کر مکمل طور پر ختم ہو جائے گا تو وہ بھی دُوسرے ستاروں کی طرح بُجھ کر بے نور ہو جائے گا۔
اَحوالِ قیامت کے ضمن میں سورج کے بُجھ کر بے نور ہو جانے کے بارے میں اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید میں فرمایا : إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْO (التکوير، 81 : 1) جب سورج لپیٹ کر بے نور کر دیا جائے گاo سورۂ تکویر میں علاماتِ قیامت کے ضمن میں سب سے پہلی علامت سورج ہی کے بے نور ہونے کو قرار دِیا گیا۔ کتنی بڑی سائنسی صداقت جس تک پہنچنے میں آج کے اِنسانی علوم کے پیچھے صدیوں کا شعور کارفرما ہے، قرآنِ مجید نے ایک ہی جملے میں بیان کر دی۔ سیارے (Planets)کائنات کی اوّلین تشکیل کے وقت 'بگ بینگ' (Big Bang) کے بعد اِبتدائی مادّہ جو بالعموم گیسی صورت میں تھا، ہر سُو بکھر گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کا درجۂ حرارت کم ہوتا چلا گیا اور اربوں نوری سال کی مسافت میں بکھرنے والا وہ مادّہ کروڑوں اربوں مرکزوں پر مجتمع ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ہر بڑے مرکز کے اندر بے شمار چھوٹے مراکز اور اُن چھوٹے مراکز کے قرب و جوار میں اُن سے بھی چھوٹے مرکزے نمو پانے لگے۔ بڑے مراکز کہکشائیں قرار پائیں اور اُن کے اندر واقع چھوٹے مراکز کا مادّہ سُکڑ کر آہستہ آہستہ ستاروں کی شکل اِختیار کرتا چلا گیا۔ یونہی اُس کے آس پاس موجود مادّے کے معمولی حصے اُن 'نیم ستاروں' (protostars) کے گرد گھومتے ہوئے سُکڑنے اور سیارے بننے لگے اور وقت کے ساتھ ساتھ اکثر ستاروں کے گرد اُن کے اپنے 'نظام ہائے شمسی' وُجود میں آ گئے۔ ہمارا سورج بھی دراصل اُنہی میں سے ایک ستارہ ہے۔ کائنات میں اِس جیسے بے شمار ستارے موجود ہیں، جن کے گرد اُن کے اپنے سیاروں کے نظام واقع ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اُن میں سے کچھ میں زِندگی بھی پائی جاتی ہو مگر اُن کی بے پناہ دُوری کی وجہ سے ابھی کچھ کہنا قبل اَز وقت ہو گا۔ نظامِ شمسی سورج سمیت بہت سے ایسے اَجسام پر مشتمل ہے جو اُس کی کششِ ثقل کے پابند ہو کر اُس کے ساتھ ایک مربوط نظام کی صورت میں بندھے ہوئے اُس کے گرد محوِ گردش ہیں۔ نظامِ شمسی کی اِبتدائی تخلیق کے وقت دِیگر ستاروں کی طرح سورج کے گرد گردِش کرنے والے 9 بڑے اور ہزاروں چھوٹے گیسی مرغولے اوّلیں عناصر کے دباؤ کے تحت مائع (یعنی لاوا) کی شکل اِختیار کرتے چلے گئے، جن سے بعد میں 9 سیارے اور کروڑوں اربوں سیارچے وُجود میں آئے۔
ہمارا نظامِ شمسی ایک سورج، 9 سیاروں، 61 چاندوں اور بے شمار دُمدار تاروں اور سیارچوں پر مشتمل ہے۔ سیاروں میں مشتری، زُحل، یورینس اور نیپچون بہت بڑے ہیں، باقی سیارے اُن سے بہت چھوٹے ہیں۔ ہماری زمین بھی اُنہی میں سے ایک ہے۔ تمام سیارے سورج کے گرد ایک ہی رُخ میں بیضوِی مدار میں سفر کر رہے ہیں۔ سورج سے فاصلے کی بنیاد پر اُن کی ترتیب یوں ہے :
اللہ ربّ العزت نے نظامِ شمسی کے لئے قرآنِ مجید میں ''سماء الدنیا'' کا لفظ اِستعمال کیا ہے، اِرشاد ہوتا ہے : إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِO (الصافات، 37 : 6) بیشک ہم نے آسمانِ دُنیا کو سیاروں کی زینت سے آراستہ کیاo اِس آیتِ کریمہ میں اللہ ربّ العزت نے سورج کے گرد محوِ گردِش سیاروں کا ذِکر کرتے ہوئے نظامِ شمسی کو آسمانِ دُنیا (یعنی زمین سے قریب ترین آسمان) قرار دیا ہے۔ 'سات آسمانوں کا قرآنی تصوّر' متعلقہ باب میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ تمام سیاروں کے اپنے مدار میں محوِ گردش ہونے کے بارے میں اللہ ربّ العزت نے قرآنِ مجید میں اِرشاد فرمایا : إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَO (يٰسين، 36 : 40) اور تمام (اَجرامِ فلکی) اپنے اپنے مدار کے اندر تیزی سے تیرتے چلے جاتے ہیںo یہ آفتاب و ماہتاب اور یہ سیارگانِ فلکی کی ریل پیل ہمارے آسمان کو کتنا دِلکش و دِلنشیں بناتی ہے مگر یہ سب آرائش عارضی ہے۔ کائنات کی ہر چیز کی طرح نظامِ شمسی کے سیاروں کو بھی ایک روز فنا ہونا ہو گا۔ سورج کی موت اُنہیں بھی موت سے ہمکنار کر دے گی۔ اُن میں سے بعض قریبی سیارے سورج میں جا گریں گے تو بیرونی سیارے اِس نظام سے رُوگرداں ہو کر نظامِ شمسی کی حدوں سے اُس پار واقع کھلے آسمان کی وُسعتوں میں بھی کھو سکتے ہیں۔ سیاروں کی سورج کے گرد گردِش کا عارضی اور وقتی ہونا اللہ تعالی نے قرآنِ مجید میں بھی بیان فرمایا ہے۔ اِرشادِ خالقِ کائنات ہے : كُلٌّ يَجْرِي لِأََجَلٍ مُّسَمًّى. (الرعد، 13 : 2) ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لئے (اپنے مدار میں) چلتا ہے۔ تمام سیارے اور ستارے، اِس کائناتِ ارض و سما کی ہر شے اور تمام اَجرامِ فلکی و سماوِی ایک معینہ مدّت تک کے لئے زِندگی کی دَوڑ میں محوِگردش ہیں۔ ہر سیارے ہر ستارے کی اپنی ایک پیدائش ہے، زِندگی ہے اور پھر موت بھی ہے۔ کسی سیارے کی موت ہی اُس کی قیامت قرار پاتی ہے اور تمام ستاروں اور سیاروں کی اِجتماعی موت جو محتاط سائنسی اندازوں کے مطابق 'بگ کرنچ' (Big Crunch) کی صورت میں آج سے کم و بیش 65,00,00,00,000 سال بعد رُونما ہو گی وہ دِن اِس کائنات کی اِجتماعی قیامت کا دِن ہو گا۔ اِس کائناتِ پست و بالا کی اِجتماعی قیامت تمام کہکشاؤں میں واقع ستاروں کے گرد گردِش کرنے والے سیاروں کو اُن کے نظام سے بہکا دے گی اور وہ بھٹک کر اپنے ہی ستارے (جس کے نظام کا وہ حصہ ہیں) یا کسی دُوسرے ستارے سے جا ٹکرائیں گے۔ سیاروں کے اپنے مداروں سے بھٹک نکلنے اور بہک کر کسی دُوسری طرف جا نکلنے کا ذِکر اللہ تعالی نے علاماتِ قیامت کے ضمن میں قرآنِ مجید میں اِن الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے : وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَتْO (الانفطار، 82 : 2) اور جب سیارے گِر کر بکھر جائیں گےo سیاروں کے اپنے مداروں سے باہر نکل جانے اور اپنی موت کی طرف چلے جانے کو اللہ ربّ العزت نے کتنے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ |
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.










No comments:
Post a Comment