Kameena ha wo...
On 22 Oct 2015 14:21, "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:
-- ab modi ki todi baney gi ..--2015-10-22 14:07 GMT+05:00 Sweet Poison <mc090410137@gmail.com>:Nice..
On 22 Oct 2015 11:16, "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:----شرپسند اور فرقہ پرست عناصرکو چھوٹ دینے کی غلطی حکومت پر کس قدر بھاری پڑ رہی ہے اس کا شاید اس کو اندازہ نہیں ہے۔ اگر یہی شب و روز رہے تو یہ صورت حال سماجی تانے بانے پر تو بھاری پڑے گی ہی خود حکومت،بی جے پی اور آر ایس ایس پر بھی بھاری پڑ سکتی ہے۔ ابھی تو صرف امریکہ کی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں ہندوستانی حکومت کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے اور پوری دنیا کے سامنے اسے بے نقاب کیا گیا ہے۔ اگر یوں ہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب دنیا کے تمام ممالک وہی باتیں کہیں گے جو امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں کہی گئی ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ دنیا بھر میں مذہبی آزادی سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کرتی ہے۔ اس بار اس کی رپورٹ میں ہندوستان کی جو شبیہ پیش کی گئی ہے وہ ہر سچے ہندوستانی کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران ہندوستان میں مذہب کی بنیاد پر حملوں، فرقہ وارانہ تشدد، گرفتاریوں اور متعصبانہ بیانات میں اضافہ ہوا ہے۔ پولیس بعض معاملات میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کے دوران موثر انداز میں کارروائی کرنے میں ناکا ثابت ہوئی ہے اور حکومت کے بعض اہلکار مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تفریق پر مبنی بیانات دیتے ہیں۔ اس رپورٹ میں یہاں کی ایک غیر سرکاری تنظیم ''ایکٹ ناؤ'' کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال مئی سے لے کر سال کے اختتام تک فرقہ وارانہ تشدد کے آٹھ سو واقعات پیش آئے۔ رپورٹ میں تبدیلی مذہب کے واقعات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ملک کی 29 میں سے 6 ریاستوں میں تبدیلی مذہب مخالف قوانین نافذ ہیں۔ یعنی کوئی بھی شخص اپنی مرضی سے اپنا مذہب بدل نہیں سکتا۔ جبکہ آئین ہند اس کی اجازت دیتا ہے کہ ہندوستان کا کوئی بھی شہری اپنی مرضی سے اپنا مذہب چھوڑ کر دوسرا مذہب اختیار کر سکتا ہے اور اپنے مذہب کا پرچار بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود چھ ریاستوں میں اس کے خلاف قانون نافذ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر ہندووں کا مذہب جبریہ انداز میں بدلوانے کے الزام میں کئی عیسائیوں اور مسلمانوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی حکومت میں مذہب کی بنیاد پر اظہار خیال کی آزادی پر قدغن لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مذہبی آزادی کو محدود کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی باتیں کہی گئی ہیں جو پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب کرتی ہیں۔یہ رپورٹ گذشتہ سال میں مذہبی آزادی سے متعلق ہے۔ اس میں امسال کے واقعات شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ اس سال تو صورت حال اور بھی خراب ہوئی ہے۔ خاص طور پر دادری واقعہ کے بعد شرپسندوں اور فرقہ پرستوں کو مزید چھوٹ مل گئی ہے۔ وہ کسی کو بھی گؤ کشی کی افواہ پر قتل کر سکتے ہیں۔ کسی بھی مندر سے جھوٹی گؤکشی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ کسی کو بھی گائے کا گوشت کھانے اور رکھنے کے الزام میں گھر سے کھینچ کر پیٹ پیٹ کر ہلاک کر سکتے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں ہو سکتی۔ گؤ کشی کے نام پر ہریانہ وغیرہ میں تنظیمیں قائم ہیں جو کسی کو بھی گائے کاٹنے کے الزام میں مار سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ گؤ شالاؤں کی بدتر حالت پر کوئی دھیان نہیں دیتے۔ امسال کی رپورٹ جب جاری ہوگی تو اس میں ہندوستان کی شبیہ مزید خراب ہوگی اور دنیا بھر میں اس کی مزید بدنامی ہوگی۔ پہلے بابری مسجد کا انہدام ہوا۔ پھر گودھرا اور گجرات میں مسلم کش فسادات ہوئے اور اب دادری کا واقعہ ہوا۔ اس درمیان چھوٹے بڑے جانے کتنے واقعات ہیں جن کا کوئی شمار و قطار ہی نہیں ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ مودی حکومت کان میں تیل ڈالے بیٹھی ہے۔ اسے اس کی کوئی فکر نہیں کہ دنیا ہمارے اوپر ہنس رہی ہے۔ اسے کیا؟ ہنسے تو ہنسے۔ اسے تو اس ملک کو ہندو راشٹر بنانا ہے اور ہندو راشٹر اسی طرح بن سکتا ہے کہ اقلیتوں کا جینا دوبھر کر دیا جائے۔ ابھی ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کا ایک انٹرویو انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ مسلمان ہندوستان میں رہ سکتے ہیں لیکن انھیں بیف کھانا ترک کرنا ہوگا۔ ارے مسلمان کہاں کتنا بیف کھاتے ہیں۔ ان سے زیادہ تو ہندو کھاتے ہیں۔ اور پھر بیف پر تو قانونی طور پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ بعض ریاستوں میں گؤ کشی پر پابندی ہے۔ بیف میں تو گائے بیل کی نسل کے تمام جانور آتے ہیں۔ تو کیا ان تمام جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ اگر حکومت ایسا چاہتی ہے تو لگا دے پابندی۔ اس کے علاوہ تمام سلاٹر ہاوس بھی بند کرا دے۔ اور پھر دیکھے تماشہ کہ کیا ہوتا ہے۔ ہاہاکار مچ جائے گا پورے ملک میں۔ ملک کی معیشت ڈگمگا جائے گی۔ کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان دنیا میں بیف سپلائی کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس نے مودی حکومت میں ہی یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس کے باوجود گوشت پر سیاست کی جا رہی ہے۔ اگر حکومت میں جرات ہے تو وہ پورے ملک میں گؤ کشی پر پابندی عاید کر دے۔ کیا یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ ہے کہ ہندوخود ہی جن میں برہمن وغیرہ بھی شامل ہیں، جب گائے بوڑھی اور لاغر ہو جاتی ہے اور دوھ دینا بند کر دیتی ہے تو مسلمان قصائیوں کے ہاتھ سے بیچ دیتے ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ گائے اس کے بھی کسی کام کی نہیں ہے۔ وہ تو اسے ذبح کرے گا اور کھائے گا بھی اور دوسروں کو کھلائے گا بھی۔ اس کے باوجود وہ گؤ ماتا کوقصائی کے ہاتھوں چند سکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں۔ پابندی لگ جائے گی تو قصائی اسے خریدے گا نہیں۔ گؤ شالاوں ہی میں ان کو دم توڑنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں وہی ہوگا جو نیل گائے کے سلسلے میں ہوا۔ جب نیل گائے پر پابندی نہیں تھی تو اسے ذبح کر دیا جاتا تھا۔ لیکن جب سے اتر پردیش وغیرہ میں اس پر غیر اعلانیہ پابندی لگی ہے ہندو خود اس سے عاجز ہیں۔ نیل گائے فصلوں کو تباہ کرتی ہے اور ہندو مسلمانوں سے جا کر کہتے ہیں کہ بھائی ان کو مارو اور کھاؤ۔ نتیجے کے طور پر چوری چپکے لوگ نیل گائے مار رہے ہیں اور کھا کھلا رہے ہیں۔بہر حال بات دادری کی چل رہی تھی۔ دادری واقعہ پر حکومت کی خاموشی بڑی مجرمانہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے گول مول بیان دیا اور اب کہہ دیا کہ دادری کا واقعہ افسوسناک ہے لیکن اس میں مرکز کا کیا رول ہے۔ یعنی ایک بار پھر گول گول گھمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر افسوسناک ہے تو انھوں نے قصورواروں کے خلاف کارروائی کی بات کیوں نہیں کی۔ اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو سے اس بارے میں بات کیوں نہیں کی۔ ان سے یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں۔ انھوں نے اپنے بیان میں بھی یہ نہیں کہا کہ جن لوگوں نے اخلاق کو مارا ہے انھیں کڑی سے کری سزا دی جائے۔ مندر کے جس پجاری نے جھوٹا اعلان کیا اسے پکڑا جائے۔ سادھوی پراچی، آدتیہ ناتھ، ساکشی مہاراج اور دوسرے لوگ اشتعال انگیز بیان نہ دیں۔ اور پھر یہ کیا با ت ہوئی کہ اس میں مرکز کا کوئی رول نہیں تھا۔ کیا مرکز کا کوئی رول ہوگا تب کارروائی کی جائے گی۔ یا پھر وہ یہ بات کہہ کر اپنی ذمہ داری سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ کانگریس نے صحیح کہا ہے کہ وہ شاید بھول گئے ہیں کہ وہ کسی ایک طبقے کے نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ملک کے سوا سو کروڑ شہریوں کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے۔ اور پھر اگر آپ سمجھتے ہیں کہ غلط ہوا تو بیان دینے کے بجائے کارروائی کیجیے۔ اس طرح تو آپ اپنا دامن نہیں بچا سکتے۔ آخر آپ وزیر اعظم ہیں۔ آپ کی بھی کوئی ڈیوٹی ہے۔ملک میں جس طرح عدم رواداری اور ایک خاص فرقہ سے تعلق رکھنے والے بعض شرپسندوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اس پر ملک کے سنجیدہ طبقات میں زبردست بے چینی اور تشویش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ساہتیہ اکیڈمی جیسے باوقار ادارے کے چار ممبران نے استعفیٰ دے دیا اور تقریباً تیس ادیبوں اور قلمکاروں نے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ واپس کر دیے۔ ابھی اور بھی کئی ادیب واپس کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ گوا کے ادیبوں کے ایک گروپ نے گوا میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول کے دوران احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ لیکن حکومت کی بے حسی دیکھیے کہ اس پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے اور وزیر مالیات ارون جیٹلی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ایوارڈ واپس کرنے والے ادیب ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ سب کر رہے ہیں۔ وہ سیاست کر رہے ہیں اور نظریاتی عدم رواداری میں مبتلا ہیں۔ حکومت کس نظریاتی رواداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بجائے اس کے احتجاج کے واقعات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے حکومت اس کو دوسرا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہندوستان میں شاید ہی ایسی بے حس حکومت کبھی آئی ہوگی۔ جس میں حکومت تو بے حسی کا مظاہرہ کرے اور شرپسند اور فرقہ پرست طبقات سماجی تانے بانے کو منتشر کرنے کا کھیل کھیلیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔ یہ حکومت کب یہ سمجھے گی کہ وہ سوا سو کروڑ شہریوں کی حکومت ہے چند افراد کی نہیں۔اب چند باتیں یو پی حکومت کے بارے میں۔ دادری معاملہ میں اس کا رویہ بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ اس کی پولیس حملہ آوروں کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔ اس نے اب تک اس پجاری کو نہیں پکڑا جس نے مندر سے جھوٹا اعلان کیا تھا۔ اگر کسی مسجد سے کوئی اعلان ہوا ہوتا تو اب تک سیکڑوں گرفتار کیے جا چکے ہوتے اور اعلان کرنے والے پر ایسی خطرناک دفعات لگ جاتیں کہ ضمانت نہیں ہوتی۔ یو پی کی پولیس نے دو دو اداروں سے اخلاق کے گھر میں پائے جانے والے گوشت کی فورنسک جانچ کرائی اور دونوں میں یہ پایا گیا کہ وہ گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا گوشت تھا۔ لیکن یوپی حکومت اس بات کو بھول گئی۔ میڈیا بھی اسے بھول گیا۔ اگر رپورٹ یہ آئی ہوتی کہ وہ گائے کا گوشت تھا تو میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا۔ لیکن اب اسے بھی سانپ سونگھ گیا ہے۔ آخر یو پی حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں۔ مودی حکومت چپ ہے تو اکھلیش حکومت کو تو کچھ کرنا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دونوں حکومتوں میں اندورن خانہ ساز باز ہو اور دونوں مل کر ایک ہی حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہوں۔
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at http://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.
No comments:
Post a Comment