Search Papers On This Blog. Just Write The Name Of The Course

Tuesday, 28 June 2016

))))Vu & Company(((( میرا شخصی مشغلہ


وہم وگمان کی بنیاد پرپروان چڑھے خیالات اور تصورات کے مطابق زندگی گذارنے سے بہتر یہ ہے کہ آپ زندگی میں اپنی مصروفیات اور امیدوں کو محدود کریں، اور اسے قلم بند کرکے اپنی لائیبریری کے سامنے چسپاں کردیں، تاکہ ہمہ وقت آپ کی نظریں اس پر پڑتی رہیں اور آپ ان مقاصد وامیدوں کے مطابق اپنی شخصیت  کا جائزہ لیتے رہیں۔

ذیل میں ہم  چند انتہائی مفید مقاصد پیش کررہے ہیں، جو آپ کے لئے انشاء اللہ کارآمد ثابت ہونگے۔
   میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کی کوشش کروں گا۔

   میں ہر وقت اخلاص کا جائزہ لیتا رہوں گا۔

   مجھے قرآن مجید مکمل حفظ کرنا ہے۔

   مجھے شرعی علم میں اضافہ کرنا ہے۔

   مجھے دلوں کی اصلاح اور اس کی شفا کا اہتمام کرنا ہے۔
   مجھے جسمانی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے۔
   مجھے اپنی ذات میں  رحم وکرم کے جذبات پیدا کرنے ہیں۔
   میں اذان سے پہلے مسجد جاؤں گا۔
   میں ہر روز صدقہ دوں گا۔
   مجھے اپنے اہل وعیال پر جملہ اخراجات کا جائزہ لینا ہے۔
   مجھے میرے ہر کام کا جائزہ لینا ہے۔
   میں سب سے پہلے اپنے گھر میں کامیاب بنوں گا۔
   میں دین کے سلسلے میں کسی چیز سے سمجھوتہ نہیں کروں گا۔
   مجھے دوسروں کی رہنمائی کرنا ہے۔
   غیرموجود لوگوں کی جانب سے میں دفاع کروں گا۔
   میں اپنے نفس کا انتقام نہیں لوں گا۔
   میں اپنے بارے میں کسی پر غصہ نہیں ہونگا۔
میں فیصلہ صادر کرنے سے پہلے طرفین کو بغور سنوں گا۔
   میں دوسروں پر اپنے آپ کے حقوق نہیں  ڈالوں گا۔
   میں کل کے کام کی آج ہی منصوبہ بندی کروں گا۔
   میں اپنے باتوں کی کمزوری پر نگاہ رکھوں گا۔
   میری چاہت یہ ہو کہ دوسرےلوگ کامیاب ہوجائیں۔
    میں غلطی سے بچوں گا، اور اگر غلطی ہوجائے تو  پھر اس سے مستفیدہوں گا۔
   میری یہ کوشش رہے گی کہ میں  اپنی ذات ، شخصیت اور کام میں سلیقہ مندی، اور منصوبہ بندی کا مظاہرہ کروں گا۔
   میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے تمام تر صلاحیتوں اور کوششوں سے کام لوں گا۔
   مجھے اپنی خوبیوں کو مزید چمکانا ہے۔
   میں تمام کاموں میں مبادیات  کا خیال رکھوں گا۔
   میں حالات واوقات کا رونا بھی نہیں روں گا۔
   میں اپنے متعلق اموراور دائرۂ عمل پر توجہ مرکوز رکھوں گا۔
   میری زبان پر ہوگا۔۔میں کوشش کرتا ہوں، میں تجربہ کرتا ہوں،  میں محنت کرتا ہوں،  مجھے سیکھنا چاہئے، یہ بات ناممکن نہیں،، کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے۔۔۔
   مجھے پتہ ہے،کہ جو بھی مجھ سے درست کام ہوا وہ میری  محنت کا نتیجہ ہے، لہٰذا مجھے اپنے نفس کا منصفانہ جائزہ لینا ہے، اور نفس پر بھروسہ غلطی کو نظر انداز کرنا ہے، لہٰذا مجھے اس کے تدارک کے لئے کام کرنا ہے۔

   مجھے اس پر یقین نہیں ہے کہ مخلوق سے کوئی محفوظ رہ سکتا ہے، لہٰذا میں اپنی توانائی اور اوقات ان میں مصروف کروں  اور ان سے بات چیت کروں، مجھے نہیں لگتا کہ ان کے ساتھ بات چیت سے مجھے نفع حاصل ہو، ہاں میں ان سے بات کرکے اپنے عیوب کی اصلاح کرسکتا ہوں۔    

  درود وسلام ہو نبی پاک ﷺ پر

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

Monday, 27 June 2016

Re: ))))Vu & Company(((( مسلم نوجوان کے نام چند نصیحتیں

Nice

On 27 Jun 2016 7:15 p.m., "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:

میرا سوال ہے کہ:امت اسلامیہ اور معاشرہ کی تعمیر میں مسلم نوجوان کا کیا کردار ہونا چاہئے؟ملاحظہ ہو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نوجوان کا ذکر کیا گیا ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ} [الأنبياء: 60]، اسی طرح نوجوان سے متعلق احادیث نبویہ بھی وارد ہیں، لہٰذا مسلم نوجوان کے دین، اس کے معاشرہ اور قوم کے تئیں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب:

الحمدللہ!
شیخ  عبدالعزیز بن باز ؒ کہتے ہیں:

'' کسی بھی قوم کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہوتے ہیں، جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں، وہ ثمر آور توانائی اور تازہ دم اور خداداد صلاحیتوں سے مسلح ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پیشتر قوموں کی بیداری اور انکے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے ہی  سر جاتا ہے۔

اس حقیقت سے دشمنان اسلام بخوبی واقف ہیں، لہٰذا انھوں نے نوجوانان ملت کے راستوں میں رکاوٹیں پیدا کرکے، ان کے رخ کو موڑکر، ان کے دین سے انہیں  بیگانہ کرکے نیز اہل علم اور اہل الرائےپر نفرت بھرے القاب چسپاں کرکےاور ان کی شبیہ کو معاشروں میں مسخ کرکےیا ان پر حکومتوں کے الزامات تھوپ کر نوجوانان ملت کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کردی ہیں۔ فتاوى الشبخ ابن باز " ( 2 / 365 ) .

(۲)۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ مسلم نوجوان کا ایک اہم کردار رہا ہے، اس نے اہم ترین خدمات اور کارنامے سرانجام دیئے ہیں ، نوجوان کی ترقی اور دوبارہ ان میں بیداری پیدا کرنے  کے لئے چند اہم امور پر عمل ضروری ہے۔

یہاں ان امور کا  خلاصہ پیش کرنا مناسب ہوگا۔

۱۔ علم شرعی:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 {هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ} [الزمر:9].

ترجمہ: بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں۔

اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے: «طَلَبُ العِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَىْ كُلِّ مُسْلِمٍ» [رواه ابن ماجه، وهو حديث حسن ] . ترجمہ: علم (دین کا) حاصل کرنا ہر مسلم پر فرض ہے۔

علم ہر مسلم پر شرعی طور پر واجب ہے، جاہل دین کو سمجھ نہیں سکتا، اور نہ محفلوں اور کلبوں میں اپنے دین کا دفاع کرسکتا ہے، جاہل سے اس کی قوم کو اس کے شہر کو اور نہ ہی اس کے دیہات اور نہ ہی اس کے اہل خانے کو کوئی فائدہ ہوتا ہے، لہٰذا مسلمان نوجوانوں کو مساجد، اور اسلامی مراکز میں قائم علمی حلقوں کا رخ کرنا چاہئے اور حفظ قرآن مجید اور کتب دینیہ کے مطالعہ میں اپنی سرگرمیاں سرانجام دینا چاہیئے۔

۲۔ دعوت الی اللہ اور لوگوں کو تعلیم دینا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}

 [آل عمران:104].

 اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔

علم کی زکاۃ ،دعوت اور تعلیم دینا ہے، جس نے بھی علم شرعی حاصل کیا ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے علاوہ تک اسے پہنچائے، اور کافروں کو اسلام کی دعوت دینے اور نافرمان بندوں کو استقامت علی الدین پر آمادہ کرنے میں حصہ لیں۔

۳۔ لوگوں کی ایذاء رسانیوں پر صبروبرداشت:

اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لئے نصیحت کو نقل فرمایا:

 {يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ} [لقمان: 17] .

ترجمہ: بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔

اور داعی کے لئے تو لازمی بات ہے کہ اسے قولی اور فعلی ایذاؤں کا سامنا ہوگا،لیکن دعوت الی اللہ کو جاری رکھنے میں یہ صعوبتیں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے، انبیاء اور رسولوں کو اس سے زیادہ ایذاؤں اور صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا، لیکن انہوں نے اپنے طریق کو چھوڑا نہیں، داعی کو ایسے موقعوں پر صبر اور احتساب سے کام لینا چاہئے۔

۴۔ اوامرکو بجالانا اور نواہی سے اجتناب:

مسلم نوجوان اپنے رب تعالیٰ کا مطیع وفرمان بردار ہوتا ہے، وہ شریعت کا کوئی حکم نہیں سنتا مگر یہ کہ سب سے پہلے اسے بجالاتا ہے، وہ کوئی ممنوعہ بات کو سنتے ہی اس سے سب سے پہلے دور ہوجاتا ہے، ایسا نوجوان کل روز قیامت عظیم اجر وثواب کا مستحق ہوگا، ایسے وقت جب سورج اپنی شعلہ باریوں کے ساتھ مخلوق کے سروں پر منڈلا رہا ہوگا تو وہ نوجوان اپنے رب تعالیٰ کے عرش کے سایے میں عرش الہٰی کی ٹھنڈی ٹھنڈی فضاؤں سے لطف اٹھارہا  ہوگا۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: سات قسم کے لوگ ہوں گے، اللہ تعالیٰ انہیں اس دن سایہ عطا فرمائے گا جس دن اللہ تعالیٰ کے سایے کے کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں ایک انصاف پرور بادشاہ اور ایسا نوجوان بھی ہوگا جس نے اپنے رب تعالیٰ کی عبادت میں پرورش پائی'' [متفق علیہ]

۵۔ تزکیہ ٔنفس:

مسلم نوجوان کو اور جس بات کی ضرورت ہے اور ہم پر جس کی نصیحت کرنا واجب ہے وہ یہ کہ مسلم نوجوان اپنے وقت کا کچھ حصہ تزکیہ نفس کے لئے بھی دے، یعنی اپنے نفس پر محنت کرے اور نفس کو ان نفل اعمال میں مشغول رکھے جن کا کرنا آسان ہو، جیسے قیام اللیل کا اہتمام، فرصت کے دنوں میں روزوں کا اہتمام، روزمرہ کے اوراد واذکار کی پابندی، یہ اعمال ہدایت کے راستے پرثابت قدم رہنے کے لئے نوجوان کا توشہ ہے، ساتھ ہی محرمات سے نظروں کی حفاظت اور منکرات کے سننے سے کانوں کی حفاظت اور باقی جوارح کی ان اعمال کے ارتکاب سے حفاظت جن کے ارتکاب سے رب تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ نیز اس باب میں مسلمان نوجوان کو نبی ﷺ کے حکم کو بجالاتے ہوئے جو کہ آپ نے نوجوانوں سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عفت نفس کا اہتمام کرنا چاہیئے۔

آپ ﷺ کا ارشاد ہے: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ» [متفق عليه]

(اے نوجوانوں کی جماعت تم میں  سے جو نکاح کرنے پر قدرت رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ شادی کرے،کیونکہ یہ نظروں اور شرمگاہ کی حفاظت کاذریعہ ہے، اور جو نکاح نہیں کرسکتا اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھے، اس لئے کہ روزہ اس (شہوت)سے بچنے کا ذریعہ ہے۔)


۶۔مستند علماء کرام سے رجوع ہونا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا} [النساء: 83].

 ترجمہ: اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے۔

ٰمسلم نوجوان جذبات کے بہاؤ میں نہیں بہتا ہے بلکہ وہ  مستند علماء اور اکابر امت  کی رہنمائی ورہبری میں ہدایت کے راستے پر چلتا ہے، جو  وسیع علم اور فائدہ مند تجربات کے حامل ہوتے ہیں، ان کی نصیحتوں پر عمل کرتا ہے اور ان کے رائے مشوروں کو عملی جامہ پہناتا ہے۔جب ایسا ہوتو امید ہے کہ نوجوان اپنی قوم، اپنے دین کو بہت زیادہ نفع پہنچانے والاثابت ہوگا۔

۷۔نوجوانوں  کولوگوں کے لئے نمونہ بننا چاہئے:

علم کے طلبگاروں، اہل علم اور داعی حضرات کا یہی حال رہتا ہے،وہ مسلم نوجوان جو لوگوں کو تعلیم کودیتا ہو ، انہیں دعوت  دیتا ہو اس کے قول وفعل میں تضاد نہیں  ہوتا  ہے بلکہ مسلم نوجوان تو فضائل سے آراستہ ہوتا ہے اور نیکیوں پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے، وہ امانت ، استقامت، صدق وسچائی اور پاکدامنی وپاکبازی میں لوگوں کے لئے ایک مثال ہوتا ہے۔

۸۔نوجوان اپنے دین پر فخر کرتے ہیں اور کافروں کی تقلید وپیروی چھوڑتے ہیں:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ} إلى قوله تعالى: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ} [الممتحنة: 4 – 6].

( ترجمہ:) تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہوسکتے) اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی۔ ہاں ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ کر آنا ہے،اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے،تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے۔

لیکن آج ہم اکثر نوجوانوں کو کفار کی پیروی میں ان کے لباس، ان کی وضع قطع اور حرکات وسکنات میں ان کی نقل کرتے ہوئے پاتے ہیں، بڑا افسوس ہے ایسے نوجونوں پر، حالانکہ ان نوجوانوں کو اپنے دین پر فخر کرنا چاہئے تھا، انہیں اپنے دین کے شعائر کے مظاہرے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے تھا، ان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے خالق ومالک کی عبادت میں لوگوں سے شرم کریں۔ نوجوانوں کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ قول، فعل اور لباس میں کافروں جیسی ہیئت اختیار کریں، اگر نوجوانوں میں یہ باتیں پیدا ہوجائیں توایسے نوجوان مغربی تہذیب وتمدن کے دلدادہ دیگر نوجوانوں کے لئے ایک بہترین نمونہ ثابت ہونگے۔

۹۔جہاد  کرنا اور  اپنے نفس کو اللہ کے راستے میں لگانا:

امت اسلامیہ کو (ینگ مسلم)مسلم نوجوان کے ہر قسم کی توانائی ا ورطاقت کی ضرورت ہے، مسلم نوجوان کو اپنے دین کی سربلندی وافتخار کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے ، مسلم نوجوان تو ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی کافر اسلامی ملک پر حملہ آور ہے تو وہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، جب خاندان بکھیردیئے جاتے ہیں تو مسلم نوجوان ان کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اسلام کے لئے ہر میدان کا شہسوار ہوتا ہے، جب کبھی اور جہاں کہیں جو بھی اسلام کے لئے ضرورت پیش آتی ہے ، ایسے وقت مسلم نوجوان کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے آگے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ معزز صحابۂ کرام میں ینگ مسلم کی مثال دیکھنا ہوتو حضرت علی ابن ابی طالب کو دیکھو، جب وہ ہجرت کی رات بلاخوف وتردد نبی پاک ﷺ کے بستر پر لیٹ گئے، عبداللہ بن ابوبکر کو دیکھو جو قریش کی خبر لیتے اور سرکار مدینہ کو مطلع فرماتے،  خلیفہ اول حضرت ابوبکر کو دیکھو جو غار ثور میں رسول اللہ کا تن تنہا ساتھ دے رہے ہیں، حضرت اسامہ بن زید کو دیکھئے جنھوں نے اکابرین صحابہ پر مشتمل ایک لشکر جرار کی قیادت سنبھالی۔


اخیرمیں ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ  مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے،اور نوجوانان ملت کو اپنی رضا وخوشنودی والے اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں ہدایت یافتہ اور ہدایت کی دعوت دینے والے بنائے۔۔۔۔آمین

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

Re: ))))Vu & Company(((( کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

Nice

On 27 Jun 2016 7:15 p.m., "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتاءیں
تمھیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمھارے در سے ہی لو لگی ہے

تجلیوں کے کفیل تم ہو مرادِ قلبِ خلیل تم ہو
خدا کی روشن دلیل تم ہو یہ سب تمہاری ہی روشنی ہے

تمہیں ہو روحِ روانِ ہستی سکوں نظر کا دلوں کی مستی
ہے دو جہاں کی بہار تم سے تمہیں سے پھولوں میں تازگی ہے

شعور و فکر و نظر کے دعوے حدِ تعین سے بڑھ نہ پائے
نہ چھو سکے اِن بلندیوں کو جہاں مقامِ محمدی ہے

نظر نظر رحمتِ سراپا ادا ادا غیرتِ مسیحا
ضمیرِ مردہ بھی جی اُٹھے ہیں جِدھر تمہاری نظر اُٹھی ہے

عمل کی میرے اساس کیا ہے بجز ندامت کے پاس کیا ہے
رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو اک آسرا یہی ہے

عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے

اُنہی کے در سے خدا ملا ہے انہیں سے اس کا پتہ چلا ہے
وہ آئینہ جو خدا نما ہے جمالِ حسن حضور ہی ہے

بشیر کہیے نذیر کہیے انہیں سراجِ منیر کہیے
جو سَر بَسر ہے کلامِ ربی وہ میرے آقا کی زندگی ہے

ثنائے محبوبِ حق کے قرباں سرورِ جاں کا یہی ہے عُنواں
ہر ایک مستی فنا بداماں یہ کیف ہی کیفِ سرمدی ہے

ہم اپنے اعمال جانتے ہیں ہم اپنی نسبت سے کچھ نہیں ہیں
تمہارے در کی عظیم نسبت متاعِ عظمت بنی ہوئی ہے

یہی ہے خالد اساسِ رحمت یہی ہے خالد بنائے عظمت
نبی کا عرفان زندگی ہے نبی کا عرفان بندگی ہے

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

))))Vu & Company(((( کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے

کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتاءیں
تمھیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمھارے در سے ہی لو لگی ہے

تجلیوں کے کفیل تم ہو مرادِ قلبِ خلیل تم ہو
خدا کی روشن دلیل تم ہو یہ سب تمہاری ہی روشنی ہے

تمہیں ہو روحِ روانِ ہستی سکوں نظر کا دلوں کی مستی
ہے دو جہاں کی بہار تم سے تمہیں سے پھولوں میں تازگی ہے

شعور و فکر و نظر کے دعوے حدِ تعین سے بڑھ نہ پائے
نہ چھو سکے اِن بلندیوں کو جہاں مقامِ محمدی ہے

نظر نظر رحمتِ سراپا ادا ادا غیرتِ مسیحا
ضمیرِ مردہ بھی جی اُٹھے ہیں جِدھر تمہاری نظر اُٹھی ہے

عمل کی میرے اساس کیا ہے بجز ندامت کے پاس کیا ہے
رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو اک آسرا یہی ہے

عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے

اُنہی کے در سے خدا ملا ہے انہیں سے اس کا پتہ چلا ہے
وہ آئینہ جو خدا نما ہے جمالِ حسن حضور ہی ہے

بشیر کہیے نذیر کہیے انہیں سراجِ منیر کہیے
جو سَر بَسر ہے کلامِ ربی وہ میرے آقا کی زندگی ہے

ثنائے محبوبِ حق کے قرباں سرورِ جاں کا یہی ہے عُنواں
ہر ایک مستی فنا بداماں یہ کیف ہی کیفِ سرمدی ہے

ہم اپنے اعمال جانتے ہیں ہم اپنی نسبت سے کچھ نہیں ہیں
تمہارے در کی عظیم نسبت متاعِ عظمت بنی ہوئی ہے

یہی ہے خالد اساسِ رحمت یہی ہے خالد بنائے عظمت
نبی کا عرفان زندگی ہے نبی کا عرفان بندگی ہے

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

))))Vu & Company(((( مسلم نوجوان کے نام چند نصیحتیں


میرا سوال ہے کہ:امت اسلامیہ اور معاشرہ کی تعمیر میں مسلم نوجوان کا کیا کردار ہونا چاہئے؟ملاحظہ ہو قرآن مجید میں متعدد مقامات پر نوجوان کا ذکر کیا گیا ہے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ} [الأنبياء: 60]، اسی طرح نوجوان سے متعلق احادیث نبویہ بھی وارد ہیں، لہٰذا مسلم نوجوان کے دین، اس کے معاشرہ اور قوم کے تئیں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب:

الحمدللہ!
شیخ  عبدالعزیز بن باز ؒ کہتے ہیں:

'' کسی بھی قوم کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہوتے ہیں، جو اپنی قوم میں نئی زندگی اور انقلاب کی روح پھونکنے کا کام کرتے ہیں، وہ ثمر آور توانائی اور تازہ دم اور خداداد صلاحیتوں سے مسلح ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پیشتر قوموں کی بیداری اور انکے انقلاب کا سہرا نوجوانوں کے ہی  سر جاتا ہے۔

اس حقیقت سے دشمنان اسلام بخوبی واقف ہیں، لہٰذا انھوں نے نوجوانان ملت کے راستوں میں رکاوٹیں پیدا کرکے، ان کے رخ کو موڑکر، ان کے دین سے انہیں  بیگانہ کرکے نیز اہل علم اور اہل الرائےپر نفرت بھرے القاب چسپاں کرکےاور ان کی شبیہ کو معاشروں میں مسخ کرکےیا ان پر حکومتوں کے الزامات تھوپ کر نوجوانان ملت کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کردی ہیں۔ فتاوى الشبخ ابن باز " ( 2 / 365 ) .

(۲)۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ مسلم نوجوان کا ایک اہم کردار رہا ہے، اس نے اہم ترین خدمات اور کارنامے سرانجام دیئے ہیں ، نوجوان کی ترقی اور دوبارہ ان میں بیداری پیدا کرنے  کے لئے چند اہم امور پر عمل ضروری ہے۔

یہاں ان امور کا  خلاصہ پیش کرنا مناسب ہوگا۔

۱۔ علم شرعی:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 {هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ} [الزمر:9].

ترجمہ: بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں۔

اور آپ ﷺ کا ارشاد ہے: «طَلَبُ العِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَىْ كُلِّ مُسْلِمٍ» [رواه ابن ماجه، وهو حديث حسن ] . ترجمہ: علم (دین کا) حاصل کرنا ہر مسلم پر فرض ہے۔

علم ہر مسلم پر شرعی طور پر واجب ہے، جاہل دین کو سمجھ نہیں سکتا، اور نہ محفلوں اور کلبوں میں اپنے دین کا دفاع کرسکتا ہے، جاہل سے اس کی قوم کو اس کے شہر کو اور نہ ہی اس کے دیہات اور نہ ہی اس کے اہل خانے کو کوئی فائدہ ہوتا ہے، لہٰذا مسلمان نوجوانوں کو مساجد، اور اسلامی مراکز میں قائم علمی حلقوں کا رخ کرنا چاہئے اور حفظ قرآن مجید اور کتب دینیہ کے مطالعہ میں اپنی سرگرمیاں سرانجام دینا چاہیئے۔

۲۔ دعوت الی اللہ اور لوگوں کو تعلیم دینا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ}

 [آل عمران:104].

 اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں۔

علم کی زکاۃ ،دعوت اور تعلیم دینا ہے، جس نے بھی علم شرعی حاصل کیا ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اپنے علاوہ تک اسے پہنچائے، اور کافروں کو اسلام کی دعوت دینے اور نافرمان بندوں کو استقامت علی الدین پر آمادہ کرنے میں حصہ لیں۔

۳۔ لوگوں کی ایذاء رسانیوں پر صبروبرداشت:

اللہ تعالیٰ نے حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے لئے نصیحت کو نقل فرمایا:

 {يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأُمُورِ} [لقمان: 17] .

ترجمہ: بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔

اور داعی کے لئے تو لازمی بات ہے کہ اسے قولی اور فعلی ایذاؤں کا سامنا ہوگا،لیکن دعوت الی اللہ کو جاری رکھنے میں یہ صعوبتیں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے، انبیاء اور رسولوں کو اس سے زیادہ ایذاؤں اور صعوبتوں سے دوچار ہونا پڑا، لیکن انہوں نے اپنے طریق کو چھوڑا نہیں، داعی کو ایسے موقعوں پر صبر اور احتساب سے کام لینا چاہئے۔

۴۔ اوامرکو بجالانا اور نواہی سے اجتناب:

مسلم نوجوان اپنے رب تعالیٰ کا مطیع وفرمان بردار ہوتا ہے، وہ شریعت کا کوئی حکم نہیں سنتا مگر یہ کہ سب سے پہلے اسے بجالاتا ہے، وہ کوئی ممنوعہ بات کو سنتے ہی اس سے سب سے پہلے دور ہوجاتا ہے، ایسا نوجوان کل روز قیامت عظیم اجر وثواب کا مستحق ہوگا، ایسے وقت جب سورج اپنی شعلہ باریوں کے ساتھ مخلوق کے سروں پر منڈلا رہا ہوگا تو وہ نوجوان اپنے رب تعالیٰ کے عرش کے سایے میں عرش الہٰی کی ٹھنڈی ٹھنڈی فضاؤں سے لطف اٹھارہا  ہوگا۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: سات قسم کے لوگ ہوں گے، اللہ تعالیٰ انہیں اس دن سایہ عطا فرمائے گا جس دن اللہ تعالیٰ کے سایے کے کوئی سایہ نہ ہوگا، ان میں ایک انصاف پرور بادشاہ اور ایسا نوجوان بھی ہوگا جس نے اپنے رب تعالیٰ کی عبادت میں پرورش پائی'' [متفق علیہ]

۵۔ تزکیہ ٔنفس:

مسلم نوجوان کو اور جس بات کی ضرورت ہے اور ہم پر جس کی نصیحت کرنا واجب ہے وہ یہ کہ مسلم نوجوان اپنے وقت کا کچھ حصہ تزکیہ نفس کے لئے بھی دے، یعنی اپنے نفس پر محنت کرے اور نفس کو ان نفل اعمال میں مشغول رکھے جن کا کرنا آسان ہو، جیسے قیام اللیل کا اہتمام، فرصت کے دنوں میں روزوں کا اہتمام، روزمرہ کے اوراد واذکار کی پابندی، یہ اعمال ہدایت کے راستے پرثابت قدم رہنے کے لئے نوجوان کا توشہ ہے، ساتھ ہی محرمات سے نظروں کی حفاظت اور منکرات کے سننے سے کانوں کی حفاظت اور باقی جوارح کی ان اعمال کے ارتکاب سے حفاظت جن کے ارتکاب سے رب تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ نیز اس باب میں مسلمان نوجوان کو نبی ﷺ کے حکم کو بجالاتے ہوئے جو کہ آپ نے نوجوانوں سے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عفت نفس کا اہتمام کرنا چاہیئے۔

آپ ﷺ کا ارشاد ہے: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ» [متفق عليه]

(اے نوجوانوں کی جماعت تم میں  سے جو نکاح کرنے پر قدرت رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ شادی کرے،کیونکہ یہ نظروں اور شرمگاہ کی حفاظت کاذریعہ ہے، اور جو نکاح نہیں کرسکتا اسے چاہئے کہ وہ روزہ رکھے، اس لئے کہ روزہ اس (شہوت)سے بچنے کا ذریعہ ہے۔)


۶۔مستند علماء کرام سے رجوع ہونا:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا} [النساء: 83].

 ترجمہ: اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے۔

ٰمسلم نوجوان جذبات کے بہاؤ میں نہیں بہتا ہے بلکہ وہ  مستند علماء اور اکابر امت  کی رہنمائی ورہبری میں ہدایت کے راستے پر چلتا ہے، جو  وسیع علم اور فائدہ مند تجربات کے حامل ہوتے ہیں، ان کی نصیحتوں پر عمل کرتا ہے اور ان کے رائے مشوروں کو عملی جامہ پہناتا ہے۔جب ایسا ہوتو امید ہے کہ نوجوان اپنی قوم، اپنے دین کو بہت زیادہ نفع پہنچانے والاثابت ہوگا۔

۷۔نوجوانوں  کولوگوں کے لئے نمونہ بننا چاہئے:

علم کے طلبگاروں، اہل علم اور داعی حضرات کا یہی حال رہتا ہے،وہ مسلم نوجوان جو لوگوں کو تعلیم کودیتا ہو ، انہیں دعوت  دیتا ہو اس کے قول وفعل میں تضاد نہیں  ہوتا  ہے بلکہ مسلم نوجوان تو فضائل سے آراستہ ہوتا ہے اور نیکیوں پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے، وہ امانت ، استقامت، صدق وسچائی اور پاکدامنی وپاکبازی میں لوگوں کے لئے ایک مثال ہوتا ہے۔

۸۔نوجوان اپنے دین پر فخر کرتے ہیں اور کافروں کی تقلید وپیروی چھوڑتے ہیں:

ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاء أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ} إلى قوله تعالى: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ} [الممتحنة: 4 – 6].

( ترجمہ:) تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہوسکتے) اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلا عداوت اور دشمنی رہے گی۔ ہاں ابراہیمؑ نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسہ ہے اور تیری ہی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ کر آنا ہے،اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے،تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا (کے سامنے جانے) اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے۔ اور روگردانی کرے تو خدا بھی بےپرواہ اور سزاوار حمد (وثنا) ہے۔

لیکن آج ہم اکثر نوجوانوں کو کفار کی پیروی میں ان کے لباس، ان کی وضع قطع اور حرکات وسکنات میں ان کی نقل کرتے ہوئے پاتے ہیں، بڑا افسوس ہے ایسے نوجونوں پر، حالانکہ ان نوجوانوں کو اپنے دین پر فخر کرنا چاہئے تھا، انہیں اپنے دین کے شعائر کے مظاہرے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے تھا، ان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے خالق ومالک کی عبادت میں لوگوں سے شرم کریں۔ نوجوانوں کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ قول، فعل اور لباس میں کافروں جیسی ہیئت اختیار کریں، اگر نوجوانوں میں یہ باتیں پیدا ہوجائیں توایسے نوجوان مغربی تہذیب وتمدن کے دلدادہ دیگر نوجوانوں کے لئے ایک بہترین نمونہ ثابت ہونگے۔

۹۔جہاد  کرنا اور  اپنے نفس کو اللہ کے راستے میں لگانا:

امت اسلامیہ کو (ینگ مسلم)مسلم نوجوان کے ہر قسم کی توانائی ا ورطاقت کی ضرورت ہے، مسلم نوجوان کو اپنے دین کی سربلندی وافتخار کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے ، مسلم نوجوان تو ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی کافر اسلامی ملک پر حملہ آور ہے تو وہ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع میں اس پر ٹوٹ پڑتا ہے، جب خاندان بکھیردیئے جاتے ہیں تو مسلم نوجوان ان کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ اسلام کے لئے ہر میدان کا شہسوار ہوتا ہے، جب کبھی اور جہاں کہیں جو بھی اسلام کے لئے ضرورت پیش آتی ہے ، ایسے وقت مسلم نوجوان کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے آگے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ معزز صحابۂ کرام میں ینگ مسلم کی مثال دیکھنا ہوتو حضرت علی ابن ابی طالب کو دیکھو، جب وہ ہجرت کی رات بلاخوف وتردد نبی پاک ﷺ کے بستر پر لیٹ گئے، عبداللہ بن ابوبکر کو دیکھو جو قریش کی خبر لیتے اور سرکار مدینہ کو مطلع فرماتے،  خلیفہ اول حضرت ابوبکر کو دیکھو جو غار ثور میں رسول اللہ کا تن تنہا ساتھ دے رہے ہیں، حضرت اسامہ بن زید کو دیکھئے جنھوں نے اکابرین صحابہ پر مشتمل ایک لشکر جرار کی قیادت سنبھالی۔


اخیرمیں ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ  مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے،اور نوجوانان ملت کو اپنی رضا وخوشنودی والے اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں ہدایت یافتہ اور ہدایت کی دعوت دینے والے بنائے۔۔۔۔آمین

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

Re: ))))Vu & Company(((( جادو ، جنات اور اُن کے شرعی معالج وعلاج

Wo to lakar k khanjar sya phir sir phar saktay ha :p

On 27 Jun 2016 2:36 p.m., "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:
main ney kaha hai LAKKAR (wood) ka khanjar 

2016-06-27 14:13 GMT+05:00 Sweet Poison <mc090410137@gmail.com>:

Lal bahi khanjar say sir kat saktay ha kalam sirf talwar say Hota ha

On 27 Jun 2016 11:27 a.m., "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:
sobo bhaai lakkar ka khanjar ley ke nical aao bahar aur sar kalam kerna shuru ker do 

2016-06-26 14:36 GMT+05:00 Sweet Poison <mc090410137@gmail.com>:

Ya Lal bahi bhot Kameenay log hotay ha jo jadu kartay ha un ka sir qalam kar daina chyeh

On 25 Jun 2016 2:45 p.m., "Jhuley Lal" <jhulaylall@gmail.com> wrote:
جادو گری اور آسیب کا اثر بلاشبہ ایک شیطانی عمل ہے۔ قرآنِ کریم کے مطابق یہ خبیث انسانوں اور جنوں کا فعل ہے۔ تاریخی طور پر اس کفریہ فعل کا ارتکاب سب سے زیادہ یہود و نصاریٰ نے کیا ہے۔ اہل اسلام بھی اس گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، حالاں کہ تینوں سماوی مذاہب میں اس کی شدیدترین وعید سنائی گئی ہے۔

جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے ہر مرض کی دوا پیدا کی ہے اسی طرح اس شیطانی عمل کا علاج بھی اس نے اپنے بندوں کو سجھایا ہے۔ راقم الحروف کو طویل عرصے سے یہ تشویش تھی کہ منفی اور غلط ذہنیت کے لوگ جادو یا اس کے علاج کو اپنے مذموم مقاصد کی خاطر استعمال کرتے ہیں جن کا سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ پھر اس پر مزید حسرت و افسوس اس وقت ہوتا ہے کہ جب ان شیطانی اعمال و افعال کا اسلام کے نام پر ارتکاب کیا جاتا ہے۔ چناں چہ یہ مضمون اسی سلسلےکی ایک ادنیٰ کاوش ہے جس میں پانچ اساسی پہلوؤں کا کتاب وسنت اور تجربہ کی روشنی میں احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے:

1.  جادو و ٹونہ اور آسیب زدگی کی علامات

2.  غیرشرعی اور غلط معالجوں کی علامات

3.  راسخ العقیدہ روحانی معالجین کی علامات

4.  شریر جادو گروں سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر

5.  جادو اورسحر کا علاج و معالجہ

حافظ ابن حجر عسقلانی � فرماتے ہیں:

''علماے کرام کااس بات پراجماع ہےکہ درج ذیل تین شرائط کے ساتھ دم کرناجائز ہے:

1.  دم کلام الٰہی ، اسمائےحسنیٰ، صفاتِ باری تعالیٰ کےذریعے یا مسنون دعاؤں سے ہونا چاہیے۔

2.  دم مسنون الفا ظ میں اور خالص عربی زبان میں ہو ،قرآنی آیات اور دعاؤں کا ترجمہ نہ ہو۔

3.  دم کرنے اور کروانے والے کا عقیدہ یہ ہو کہ دم بذاتِ خود مؤثر نہیں بلکہ شفا دینے والی صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ہے۔دم وغیرہ تو اس کے حضور محض التجا و درخواست ہے ۔''1

مذکورہ بالا تینوں شرائط کے علاوہ بھی مزید کچھ آداب ہیں، جن کی طرف مختلف کتبِ رقیہ شرعیہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے چند ایک اہم ترین مندرجہ ذیل ہیں:

دم کروانے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ حرام کیفیت اورشرکیہ وکفریہ نہ ہو ، نیز نا پاک ونجس جگہوں اورقبرستان وغیرہ میں نہ ہو۔2

اسی طرح کسی جادو گر سے علاج کروانا جائز نہیں کیونکہ جادو گرکے متعلق نبیﷺنے فرمایا:

«مَنْ أَتَى كَاهِنًا، أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ﷺ»

''جو کسی کاہن (جادو گر) یا نجومی کے پاس آیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی تو یقیناً اس نے محمدﷺ پر نازل ہونے والی شریعت کا انکارکیا ۔''3

ایک اورحدیث میں ہے کہ

«مَنْ أتى عَرَّافًا فَسَأَلهُ عَنْ شَئٍ لم تُقْبَلْ لَهُ صَلاةٌ أربَعِيْنَ لَيْلَةً »4

''جو آدمی کاہن کے پاس آیا اور اس سےکسی چیز کے متعلق سوال کیا تو اس کی چالیس دن نماز قبول نہیں کی جائےگی۔''

حصہ اوّل: جادو ٹونہ اورآسیب کی علامات

درج ذیل علامات میں سےکوئی ایک علامت اگر کسی شخص یا گھر کےاندرپائی جاتی ہو تو اسے شرعی معالج سے تصدیق کرالینی چاہیے جبکہ کچھ علامات تو بجائے خود جادو کی تصدیق کرتی ہیں ۔ ایسی علامات کی موجودگی میں قرآن وسنت کے ذریعے فوری علاج ضروری ہے بصورتِ دیگر غلط نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔جادو کی علامات دو طرح کی ہیں :

حالتِ نیند کی علامات حالتِ بیداری اور دورانِ دم ظاہر ہونے والی علامات

حالتِ نیند کی علامات

1.  بےخوابی :انسان کافی دیر تک بالکل سو نہ سکے۔

2.  قلق و ملال :کثرتِ بیداری کی وجہ سے طبیعت میں اکتاہٹ اور گھبراہٹ وغیرہ رہے ۔

3.  گھٹن : خواب میں ایسامنظر دیکھنا کہ کوئی گلا دبا رہاہے، کوئی پیچھے لگاہواہےیا سینے کے اوپر دباؤ کی کیفیت ہے اور چاہتے ہوئے بھی کسی کو مدد کے لیے نہیں بلا پاتا۔

4.  ڈراؤنے خواب : مثلاً خواب میں دیکھے کہ کوئی مجھے قتل کر رہا ہے، کنویں میں گرارہا ہے،چھت اوربلندی سے پھینک رہا ہےیاگر رہا ہے ۔

5.  خواب میں سانپ،کتے ،بلی ،بھینس جیسے جانور وغیرہ دیکھے ۔

6.  نیند کے دوران دانت پیسنا5

7.  نیند کے دوران ہنسنا یا کلام کرنا

حالتِ بیداری اور دوران دَم ظاہر ہونے والی علامات

1.  ذکرِالٰہی:نماز،اطاعتِ الٰہی کےکاموں میں رکاوٹ ہونا

2.  اذان یاتلاوت قرآن اورمسنون اذکارسن کربےچین ہونا

3.  نصابی وغیر نصابی کتب،بالخصوص قرآنِ مجید پڑھتےہوئے سر درد،گھبراہٹ اور بے چینی کا محسوس ہونااور باربار امتحان میں فیل ہونا۔

4.  دائمی سردردہونا

5.  کسی عضو میں ایسادردہوکہ طب انسانی اس کےعلاج سے عاجزآچکی ہو۔

6.  سوچ و بچار میں ذہنی انتشار کا شکار ہونا

7.  ہر وقت سستی وکاہلی کا شکار ہونا

8.  پریشان خیالی ،حواس باختگی اور شدید نسیان کا شکار ہونا

9.  سینےمیں شدید گھٹن کا احساس،کبھی کبھی معدے،کمر ،اور کندھوں میں شدید درد کا ہونا

10.  مختلف اوقات میں دورے پڑنا اورپاگلوں جیسی کیفیت طاری ہونا

11.  کسی خاص جگہ مثلاً گھر یادفتر میں بے چینی وگھبراہٹ محسوس کرنا

12.  کپڑے کَٹ جانا ،جسم پر نشانات،نیل پڑجانایا بلیڈوغیرہ سے زخم لگ جانا

13.  خون اور پانی کے چھینٹے پڑنا

14.  گھرمیں تعویذ،انڈے ، سوئیاں، کیل، دالیں ، مختلف پرندوں، جانوروں کا گوشت، جانوروں كی سِری (اکیلا سر ،بغیر جسم کے) وغیرہ کا آنا

15.  جاگتےہوئےکسی کی موجودگی کااحساس ہونا

16.  جاگتے،سوتےڈراؤنی آوازیں سنائی دینا

17.  اندھیرےمیں بہت زیادہ خوف محسوس کرنا

18.  کثرتِ وساوس اورشکوک وشبہات میں مبتلا ہونا

19.  بیوی کو خاوند اور خاوند کو بیوی بدصورت لگنے لگے جب کہ وہ دونوں خوبصورت ہوں

20.  اچانک بیوی یا دیگرافرادکے ساتھ نفرت یا محبت میں حد سے بڑھ جانا6

21.  خلوت پسندی اورخاموشی کو ترجیح دینا اور محفلوں سے ہمیشہ دور رہنا

22.  ساکن چیزکومتحرک اور متحرک چیزکوساکن دیکھنا

23.  بے تکی باتیں کرنا ،ٹکٹکی باندھ کر ٹیڑھی نگاہ سے دیکھنا

24.  کسی بھی کام کو مستقل بنیادوں پر نہ کر سکنا

25.  عضوی مرگی کا ہونا7

26.  جدید آلات کے ذریعہ مثلاً موبائل،فیس بک وغیرہ پر نہ سمجھ آنے والے پیغامات موصول ہونا

انتباہ:یاد رہے کہ یہ علامات زیادہ تر جادو و آسیب زدہ مریض میں پائی جاتی ہیں اوربسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا علامات میں سے بظاہر کوئی علامت بھی محسوس نہیں ہوتی، جب کہ حقیقت میں انسان ان میں سے کسی نہ کسی سےضرور متاثر ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات ا س وقت زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے جب انسان اس طرح سحرزدہ بھی ہو اور وہ اسے تسلیم بھی نہ کرےاور محسوس بھی نہ کرے۔ لہٰذا ایسی صورت میں انسان فوراً قرآنِ مجید کی تلاوت اور مسنون اذکار کی پابندی کرے اورکسی صحیح العقیدہ معالج سے مشورہ بھی کرے۔

جادو اور جنات کے اثرات

جادو؍جنات کے اثرات چارطرح کے ہیں :

1. کلی اثر:یعنی جادو پورے جسم پر حاوی ہو اور اس کی وجہ سے جسمانی کھچاؤاورتناؤ پیداہو جائے۔

2.  جزوی اثر:جادو کا اثر جسم کے کسی عضو پرہو۔ مثلاً سر،کلائی ،ٹانگوںوغیرہ پر ۔

3.  دائمی اثر:جادو کا اثر جسم پر عرصہ دراز تک رہے ۔

4.  عارضی اثر :جادو چندمنٹوں سے زیادہ اثر نہ رکھے،مثلاً جس طرح شیطانی خواب آنا اور پریشان کن نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہونا

حصّہ دوم:معالجوں کی اقسام، طریقے اور علامات

معالجین(دم کرنےوالوں) کیتین اقسام ہیں:

1.  وہ معالج جو قرآن وسنت کی روشنی میں علاج کرے۔

2.  وہ معالج جوٹونےٹوٹکے،شعبدہ بازی،متاثر کن قسم کےکرتب دکھا کر اور قرآنی وغیرقرآنی فال نکال کرعلاج کرے۔مثلاًہاتھ کی صفائی سے سوئیاں ،کیل ،بال، دھاگے،تعویذات اور پتلے وغیرہ نکا لے یا کیمیائی موادسے کوئی چیز جلادے یا خاص قسم کی بوٹی سونگھا کر بےہوش کردےوغیرہ۔

3.  وہ معالج جوجنوں وشیطانوں، ستاروں اور سیاروں کی غیرمرئی قوتوں کی مددحاصل کرکےعقل کو حیران کرنے والےطلسمات سےجادوکاعلاج کرے۔8

جنات اورجادو کو جادوگر کیسے ختم کرتا ہے؟

جادوگر چار غیر شرعی طریقوں کے ذریعے مریض کے جسم سے جادواور جنات کو نکالتا ہے:

پہلاطریقہ: جنات اور شیاطین کی خوشنودی کے ذریعے:مریض سے بعض شرکیہ اورحرام کاموں کا ارتکاب کرواکے وہ جنات کی خوشنودی چاہے، مثلاًجنات کے نام پر صدقہ وخیرات اورجانورذبح کروائے اور حرام چیزوں کے استعمال کا کہے۔

دوسرا طریقہ: جنات اور شیاطین سے صلح کے ذریعے:اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مریض کے اہل خانہ ایک روٹی پر نمک رکھ کر اسے فضا میں اُچھالتے ہیں، اسے شیاطین کے ہاں 'جنوں کے لیے قربانی' کہا جاتا ہے۔ اس سے گویا شیطان، جنوں اور جادو سے متاثرہ شخص کے درمیان صلح ہو جاتی ہے اور وہ اس سے اپنے نام کی قربانی لے کر اس کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں۔

بعض لوگ ایسے کاموں کو بہت معمولی سمجھتے ہیں اور ان کے ارتکاب میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں محسوس کرتے، حالانکہ یہ عقیدے سے تعلق رکھتا ہے اور ایمان کی بربادی کا باعث بن جاتا ہے۔ اس پر نبی مکرمﷺ کا یہ فرمان صادق آتا ہے کہ ایک آدمی مکھی کی وجہ سے جنت میں چلا گیا اور ایک آدمی مکھی کے سبب ہی جہنم میں چلا گیا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللّٰہ کے رسول! ایسا کیونکر ہوا...؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: دو آدمی ایک ایسی بستی کے پاس سے گزرے کہ جہاں کے باسیوں کا ایک بُت تھا اور ان کا قانون تھا کہ کوئی بھی شخص وہاں سے تب تک گزر نہیں سکتا تھا جب تک کہ اس پر کوئی چیز قربان نہ کرے۔ لہٰذا اُنہوں نے اُن دونوں میں سے ایک سے کہا: اس پر کوئی چیز قربان کر کے چڑھاوا چڑھاؤ۔ اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کوئی بھی چیز چڑھا دو، خواہ ایک مکھی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے مکھی پکڑی اور اس بُت پرقربان کر دی۔ پھر انہوں نے دوسرے سے کہا کہ تم بھی اس پر کوئی قربانی چڑھاؤ۔ اس نے جواب دیا: ما كنتُ لأقرب لأحد شيئًا دون الله عز وجل فضربوا عنقه، فدخل الجنة.میں اللّٰہ کے سوا کسی کے لیے کوئی قربانی نہیں دوں گا اور نہ ہی کسی غیراللّٰہ پر کوئی چڑھاوا چڑھاؤں گا۔ اس بُت کے پجاریوں نے اس کی گردن اُڑا دی۔ یوں یہ شخص جنت میں چلا گیا اور پہلا شخص جہنم میں چلا گیا۔8

تیسرا طریقہ: رقص و سرود کے ذریعے:جن نکالنے کا یہ طریقہ بدترین اور آزمائش کن ہے، یہی وہ طریقہ ہے جس میں شرکیہ اور غیرشرعی افعال کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ رقص وسرود کی اجتماعی محافل،دورانِ رقص بے حیائی کا ارتکاب،مدہوش کن خوشبو اور شمع جلانا اسی طریقہ میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔ درحقیقت یہ ایک رسم سی ہے، اس میں شیاطین کی پرستش کی جاتی ہے اور آخر میں حاضرین محفل میں سے ایک شخص غیراللّٰہ کے نام پر کیا گیا ذبیحہ مریض کے سر پر لے کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کا خون آسیب زدہ شخص کے جسم پر ملا جاتا ہے۔ اور آخرمیں ایک عورت تمام مردوں کے سامنے برہنہ ہوتی ہے۔ مختصر بات یہ ہے کہ اختلاط، رقص و سرود، غیر اللّٰہ کے نام پر جانور ذبح کرنا اور شیطان کی پرستش کی وجہ سے یہ حرام ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں محفوظ فرمائے!!

چوتھا طریقہ: جادوئی جبر کے ذریعے:اس طریقے سے جادو کو جادو کے ذریعے ہی ختم کیا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ عامل مریض کے اندر موجود جن کو بھگانے کے لیے بڑے اور طاقتور شیاطین مستقل طور پر اس پہ مسلط کر دیتا ہے، جو بظاہر تو اس کو سکون دیتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اس کے دِین و دُنیا کو برباد کر دیتا ہے۔ جس سے درج ذیل نقصانات ہوتے ہیں:

1.  حدیثِ مبارکہ کی رُو سے جادوگر سے صرف پوچھ گچھ کرنا ہی اس قدر کبیرہ گناہ ہے کہ انسان کی چالیس دِن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ جیسا کہ رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا:

«مَنْ أَتٰى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَیْئٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِینَ لَیْلَةً»

''جو شخص کاہن (جادوگر) کے پاس آیا اور اس سے کوئی بات پوچھی تو چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کی جاتی۔''9

2.  جب صرف پوچھ گچھ کرنے سے ہی اتنا بڑا دِینی نقصان ہو سکتا ہے تو پھر ان سے باقاعدہ علاج کروانے اور اس سے متاثر ہو کر اس سے علاج کروانے والے کا کیا حال ہو گا؟! ایسے شخص کے متعلق نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

«مَنْ أَتَى کَاهِنًا فَسَأَلَه وَصَدَّقَهُ بِمَا یَقُولُ، فَقَدْ کَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ السَّلَامُ»10

''جو شخص کسی کاہن کے پاس آیا، اس سے کوئی بات پوچھی اور اس کی بات کی تصدیق کی، تو اس نے اس كا انكار كيا جو محمدﷺ پر نازل ہوا۔''

مذکورہ تمام طریقے ایسے ہیں کہ جن کے ذریعے جادوزدہ مریض کا علاج کیا جائے تو زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ اس سے جن نکلنے کی بجائے اور بھی پختہ ہو جاتا ہے، کیونکہ اسے اپنے جیسا ایک ناپاک جسم مل جاتا ہے جو کسی بھی طرح کے حرام کام کے ارتکاب میں ہچکچاہٹ نہیں دِکھاتا۔

غیر شرعی عامل ومعالج کی علامات

درج ذیل علامات میں سےکوئی علامت اگر کسی علاج کرنےوالے کےاندرپائی جاتی ہو تو یقین کر لینا چاہیے کہ یہ جادو گر ہے اورایسےشخص سے علاج کروانا بسااوقات انسان کو کفر تک پہنچادیتا ہے:

1.  روحانی معالج مریض ، اس کی والدہ یا سلسلۂنسب میں سے کسی کا بھی نام پوچھے۔

2.  روحانی معالج مریض کےکپڑوں میں سےکوئی کپڑا،قمیص،ٹوپی، رومال ،تصویروغیرہ منگوائے۔

3.  جادوگردورانِ علاج سمجھ میں نہ آنے والے کلمات زبان سےادا کرے۔

4.  مریض کو بعض جائز وحلا ل چیزوں کے استعمال سےروکے، مثلاً بڑا گوشت نہیں کھانا،فوتگی پر نہیں جانا، اتنے دن نہانا نہیں وغیرہ۔

5.  جادو والے طلسم لکھے، تعویذات تیار کرکے دے، ان پرخانوں والی شکلوں میں حروف واعداد لکھ کر دے ،اللّٰہ کا کلام تحریر کرکے اس کو کاٹ کاٹ کر استعمال کرنے کی تلقین کرے اورغیر اللّٰہ کی قسم دلا کر بحق فلاں بن فلاں پڑھے یالکھ کردے۔

6.  غیر محرم عورتوں کوچھوئے اور خلوت ؍علیحدگی میں علاج کرے۔

7.  کسی جانور یا پرندے کوذبح کرنے کا مطالبہ کرےاور اس کا خون مریض کے بدن پر ملنے کاکہے۔

8.  روحانی معالج نے چلہ کشی کرکےاپنے مخصوص جنات رکھے ہوں اور پھر اُنہیں کسی بھی صورت میں حاضر کرکے اُن سے متعلقہ اُمور میں مدد لے۔

9.  مریض کو کچھ ایسی چیزیں دے جنہیں زمین یا قبرستان میں دفن کرنےیا لٹکانے کا کہے ۔

10.  صحیح اسلامی عقائد اور صوم و صلاۃ سے لاپرواہی برتے، دینی وضع وقطع سے غفلت اختیار کرے اور حلال و حرام کے درمیان امتیاز روا نہ رکھے۔

11.  سگریٹ نوشی اوردیگر منشیات کا شکار ہو۔

صحیح راسخ العقیدہ روحانی معالجین کی علامات

عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ چند الفاظ اور طریقے سیکھ لینے سے روحانی معالج بن بیٹھتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر وہی مثل صادق آتی ہے کہ ''نیم حکیم خطرۂجان اور نیم ملا خطرۂ ایمان''۔ یہ لوگ اپنا اور معاشرے کا نقصان کرتے ہیں۔ان کے پاس جانے سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہیے۔ تاہم ذیل میں ہم عمومی طور پر چند صفات کی طرف اشارہ کیے دیتے ہیں جو ایک روحانی معالج کے اندر پایا جانا ضروری ہے :

1.  سلف صالحین کےمطابق صحیح عقیدہ رکھتا ہوجوتمام صحابہ وتابعین اورتبع تابعین کا عقیدہ تھا اورجو ہر طرح کے شک و شبہ سے محفوظ ہے۔

2.  اس کے قول وفعل میں توحید خالص جھلکتی ہو۔

3.  اطاعتِ الٰہی کو ہر وقت بجالانے والا ہو جس کی وجہ سے شیطان ذلیل ورسوا ہوتا ہے۔

4.  عملیات کاکام صرف رضاے الٰہی کےحصول کےلیے شروع کیا ہو۔

5.  عالم دین ہویاکم ازکم حافظ وقاری ہواور جادو گر،جنات اور شیاطین کی چالوں کو سمجھتا ہو۔ دینی مسائل پر عبور رکھتا ہو اور دینی کام سے وابستہ ہو۔

6.  تمام حرام اشیا سےپوری طرح اجتناب کرتا ہو۔

7.  ہرحال میں زبان سےامر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرنے والا ہو۔ برائی کودیکھ کرخاموش بیٹھتا ہو اور نہ ہی کسی منکر پر خوش ہوتا ہو۔

8.  اسلام کےبتائے ہوئےاخلاقیات پر عمل پیرا ہو اوررذائل اخلاق وعادات(جھوٹ، دھوکا، بخل، حرص، حسد اورکینہ وغیرہ) سے دور ہو۔

9.  حلال وحرام کی تمیز کرنے اور ا س کے مطابق عمل کرنے والا ہو۔

10.  کبائر سےمکمل اجتناب کرنےوالا اور صغائر سے حتی المقدور بچنےوالاہو۔

11.  ظاہری وضع قطع میں شریعت کامکمل پابند ہو۔

12.  مال کاحریص نہ ہو اوردوسروں کےمال پر نظر نہ رکھتاہو۔

13 .  دینی حلقوں اورعلما سے محبت رکھتا ہو۔

14.  جنات اورشیاطین کے احوال اور ان کی چالوں کو مکمل جانتا ہو۔

15.  جادو ٹونہ اور شیاطین کو بھگانےکا تجربہ اورمہارت رکھتا ہو۔

16.  قرآنی اور مسنون عملیات سیکھے اور ہر قسم کے غیر شرعی عملیات ووظائف اور چلہ کشی سے بچتا ہو۔

17 . لوگوں سےہمدردی رکھنےوالا ہو اور سائلین کی حالت سن کر اُنہیں فریبی دھوکا باز یا جعل ساز نہ سمجھتا ہو۔

18.  انسانوں کی خوشی کےلیے شرعی احکام توڑنےپررضامند ہونے والا نہ ہو۔

19.  یہ عقیدہ رکھتا ہوکہ اللّٰہ کاکلام جن و شیاطین پر اثر کرتاہے اور اس میں کسی تذبذب کا شکار نہ ہو۔

20.  ثابت قدم اور پختہ مزاج ہو۔جلدباز، بےصبر اورمتلون مزاج نہ ہوکیوں کہ روحانی علاج ؍عملیات کوشروع کرنا توہر ایک کا اپنااختیار ہے لیکن اسےچھوڑنا نہایت خطرناک ہوتا ہے۔

21.  معالج کے لیے شادی شدہ ہونامستحب ہے۔

22.  لوگوں میں سے بالخصوص مریضوں کے رازوں کا مکمل امین ہو۔

23.  عامل ذہنی اعتبار سے مضبوط الحواس اور جسمانی اعتبار سے بارعب اور طاقتور ہو کیونکہ بسا اوقات مریض سے کشتی وہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے۔

24.  عامل اس کام کو دعوت دین کا بہت بڑا ذریعہ سمجھے اور اس کو دینی خاص مشن کے طور پر لے نہ کہ ہوس پرستی اور خود غرضی کا ذریعہ بنائے۔

25.  عامل باحیا ہو اور دینی ومعاشرتی اعلیٰ اقدار کا حامل ہو اور نظر بد کے استعمال سے پرہیز کرے جو ہر گناہ کا پیش خیمہ ہے۔

26.  لوگوں کی شفا اور عقیدے کی اصطلاح کا بے حد حریص ہو اس طرح ان کو نماز، روزہ، زکوٰۃ اور ذکر واذکار کا پابند بنائے۔

27.  اپنے اور لوگوں کے اعمال کا یومیہ بنیاد پر محاسبہ کرے۔

28 . جلوت اور خلوت میں ہمیشہ اپنے مریضوں کے لیے دعا گو ہو۔

29 . اپنا اور اس عظیم مشن کا خیال کرتے ہوئے ہر اس کام کو اختیار کرنے کی کوششیں کرے جو اس کے شایان شان اور لائق احترام ہے اسی طرح ہر اس کام سے اجتناب کرے جو خود اس کی عزت، احترام اور دین کے منافی ہے۔

حصّہ سوم:جنات اور شیاطین سے بچاؤ کی تدابیر

جنات و شیاطین کے شر سے محفوظ رہنے کے لیے درج ذیل امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے:

1.  اپنی نیت کو ہر وقت خالص رکھنا

2.  اپنے عقائد درست رکھنا اور عبادات میں بھر پور محنت کرنا،خصوصاً نماز کا اہتمام کرنا

3.  ہر دم اللّٰہ تعالیٰ پرمکمل توکل اور بھروسہ رکھنا

4.  ہر وقت تقویٰ اورخوفِ الٰہی کو دل میں جگہ دینا

5.  پورے دین پر استقامت اختیارکرنا خصوصاًارکان اسلام کی پاسداری کرنا

6.  صبح و شام کے مسنون اذکار کی پابندی کرناجادوسے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

7.  کسی بل میں پیشاب کرنے یا ہڈی اور لید وغیرہ سے استنجا کرنے سے پرہیز کرنااور دعائے بیت الخلا «بسم الله اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» پڑھ کر پیشاب کرنا۔

8.  اس موذی مرض سے بچنے کے لیے ہر وقت اللّٰہ جل جلالہٗ سے مدد طلب کرنا

9.  ہر کام کی ابتدا میں بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا

10.  دینی حوالےسے معاشرےمیں پھیلی ہوئی ہر طرح کی بدعات و خرافات سے دور رہنا،خصوصاً شرک ، کفر و نفاق سے اجتناب کا اہتمام کرنا، نیز کتاب و سنت سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنا

11.  حرام خوری اور حرام کاری سے اپنی زبان، نگاہ اور پیٹ کو محفوظ رکھنا

12.  شیطانی آلات اوربدکاری کاپیش خیمہ یعنی موسیقی ،گانے وغیرہ سننے سے مکمل پرہیز کرنا

13.  غیر محرم عورتوں سے بد نظری ،خلوت اور مصافحہ کرنے سے اجتناب کرنا کیونکہ یہ شیطان کے جال اور پھندے ہیں۔

14.  بدن،جگہ اورکپڑوں کی طہارت کامکمل اوربغیرکسی کوتاہی کے فوری اہتمام کرنا خصوصاً بچوں اور اپنے پیشاب کے چھینٹوں سے، حالتِ جنابت واحتلام اور حالتِ حیض وغیرہ سے۔

15.  زیادہ دیر غصّے ، نفسیاتی اور شہوانی خیالات میں اُلجھے رہنے سے بچنا

16. ویران مقامات،حمام ،قبرستان وغیرہ میں ٹھہرنااور بالخصوص اندھیرےمیں اکیلےسونا یا بیٹھنا انتہائی نقصان دہ ہے۔

17.  گھریلو اور خاندانی ناچاکیوں سے حتیٰ الوسع اجتناب کرنا۔ آپس میں صلہ رحمی اور محبت و پیار کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرنا

18.  صبح نہار منہ سات عجوہ کھجوریں کھانا

19.  قرآنی آیات اور مسنون اذکار کے سوا کوئی وظیفہ خاص تعداد ،خاص اوقات اورمتعین جگہوں میں بیٹھ کر نہ پڑھنا ۔

20.  کثرت سے صدقہ وخیرات کرنا

21.  اعمال صالحہ کو اپنی حقیقی غذا سمجھنا

22.  پردے کی مکمل پابندی کرنا

23.  عورت کے لیے ناخن بڑھانے، مساج کرنے اور بال کٹوانے سے بچنا

24.  مرد کے لیے داڑھی کٹوانے، شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنے سے گریز کرنا

25. غیبت ،حسد ، کینہ جھوٹ مذاق اور دیگر ملعون افعال سے بچنا

26.  غلط لٹریچر پڑھنے، سننے اور لکھنے سے بچنا

27 . گھروں میں تصاویر ،بت اور شوپیس کی شکل میں سٹیچو رکھنے سے یا لٹکانے سے بچنا

28 . تمام گناہوں کو ترک کر کے توبہ نصوح اور کثرت سے دعا کرنا

مذکورہ بالا اُمور كی پابندی کرنے سے انسان شریر جادو گروں کے جادو اور حاسدوں کے حسد سے مکمل طور پر محفوظ رہ سکتا ہے۔ان شاءاللّٰہ

حصّہ چہارم: جادو، نظربد اوردیگر روحانی امراض کاشرعی وظیفہ اورعلاج کے طریقے

جادو اور آسیب زدگی کا علاج درج ذیل طریقوں سے کیا جاسکتا ہے:

1.  کلونجی کے ذریعے علاج :کلونجی (Black Seeds)کےبارے میں

نبیﷺنےفرمایا:'' کلونجی موت کے سوا ہر مرض کے لیےباعثِ شفا ہے۔''11

2. شہد کے ذریعےعلاج : مریض صبح نہار منہ حسبِ طبیعت دو چارچمچ شہد کھالے اور رات کو سوتےوقت ایک کپ گرم پانی میں شہد اور کلونجی ملا کر اس پر سورۃ الجن ،سورۃ الفاتحہ،چاروں قل، سات سات مرتبہ پڑھ کر دم کر کے اسے پی لے۔ایک ہفتے کے عمل سے ان شا اللّٰہ ٹھیک ہوجائے گا۔12 کوئی دوسرا آدمی بھی اس کو پڑھ کر دے سکتا ہے لیکن خود عمل کرنا زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔

3.  عجوہ کھجوروں کے ذریعہ جادو کاعلاج : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

«مَنِ اصْطَبَحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتِ عَجْوَةٍ، لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ اليَوْمَ سَمٌّ، وَلاَ سِحْرٌ»13

''جو صبح نہارمنہ سات عجوہ کجھوریں کھا لے، اس کورات ہونےتک اس دن کوئی زہراور جادو اثر نہیں کرے گا۔''

4. سینگی کے ذریعہ جادوکا علاج:رسول اللّٰہ ﷺ نےفرمایا:

«الشِّفَاءُ في ثَلَاثَةٍ : في شَرْطَةِ مِحْجَمٍ ، أو شَرْبَةِ عَسَلٍ ، أو كَيَّةٍ بِنَارٍ ، وأنا أَنْهَى أُمَّتِي عن الْكَيِّ»14

''شفا تین چیزوں میں ہے: شہدپلانے، سینگی لگوانے اور آگ سے داغنے میں۔مگرمیں اپنی امت کو آگ سے داغ لگوانے سے منع کرتا ہوں۔''

5.  بیری کے پتوں سے غسل کے ذریعے علاج : ابن بطال اور شیخ ابن باز رحمہمااللّٰہ نے ذکر کیا :

''مریض بیری کے سات سبز پتے لے کر دو پتھروں کے درمیان یا کسی اور چیز سے کوٹ لے، پھر اسےاتنےپانی میں ڈال دے جو غسل کے لئے کافی ہو۔اس پردرودشریف،سورۃ الفاتحہ، آیت الکرسی،سورۃ بقرۃ کی آخری دو آیات ،چاروں قل، آیاتِ سحر 15ایک ایک مرتبہ پڑھ کر دم کرے۔ پھراس میں سے تین گھونٹ پی لے اور باقی پانی سے غسل کرلے۔ یہ عمل سات دن ہر روز تازہ پتوں پرکرے۔اس سےزیادہ دن بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔ جو بھی جادو ہو گا،وہ ختم ہو جائے گا۔ ان شاءاللّٰہ

6.  زجر وتوبیخ کے ذریعے علاج:نبیﷺنےایک آسیب زدہ آدمی پرمسلط جن کو ڈرایا دھمکایا اور فرمایا: أَعُوذُبِالله مِنكَ (تین مرتبہ) اَلْعَنُكَ بِلَعْنَةِ اللهِ(تین مرتبہ)16

اُخْرُجْ یَا عَدُوَّ اللهِ، أَنَا رَسُوْلُ اللهِ17

7.  زم زم اور بارش کے پانی سے علاج:مریض کو سب سےافضل اور مبارک پانی زمزم پلائیں جو حدیثِ نبوی کی رو سے غذاہے ۔18

ایک حدیث کی رو سے آبِ زمزم باعثِ شفاہے ۔19

اور بارش کے پانی کے حوالے سے فرمانِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَنَزَّلنا مِنَ السَّماءِ ماءً مُبـٰرَ‌كًا ... ﴿٩﴾... سورة ق

''اورہم نے آسمان سےبرکت والاپانی اُتارا۔ ''

8. صدقہ و خیرات کے ذریعے علاج:نبی ﷺ نےفرمایا:

'' صدقہ وخیرات مصیبتوں کو ٹالتا (ختم کرتا)ہے۔''20

اورصحیح حدیث کے مطابق نبیﷺ نے صدقہ کے ذریعہ علاج کرنے کا حکم فرمایا ہے۔21

9.  اذان کے ذریعے علاج:نبیﷺ نےفرمایا :

''جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گندی ہوا چھوڑتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے اور وہاں جا کر رکتا ہے جہاں اذان کی آواز نہ سنائی دے رہی ہو۔ ''22

10 . جادو زدہ اشیا نکال کر اُنہیں ضائع کرنے کے ذریعے علاج:اس کے دو طریقےہیں :

1. مریض نمازِ عشا پڑھنے کے بعد مسنون اَذکار پڑھ کر اللّٰہ تعالیٰ کے حضور انتہائی عجز و انکسار کے ساتھ رو کے دعا کرےاور وضو کر کے سنت کے مطابق سو جائے۔ اللّٰہ تعالیٰ ٗ اپنے فضل وکرم سے بیداری یا خواب میں اس جگہ کا پتہ بتا دے گا۔ ان شاءاللّٰہ

2. جادو زدہ آدمی پر مسنون دم کے دوران جن حاضرہو جائے تو اس سے پوچھیں کہ جادوگر کون ہے اور اس نے جادو زدہ اشیاکہاں چھپائی ہیں؟پھر اس کی بتائی ہوئی جگہ سے وہ اشیا نکال کرضائع کر دی جائیں اور جادو گر کو بھی آئندہ کے لئے تنبیہ کر دی جائے۔

ضائع کرنے کا طریقہ :جادو زدہ چیزوں پرمکمل مسنون وظیفہ پڑھ کر اُنہیں پانی میں بھگو دیں اور پانی عام گزر گاہ سے دور بہا دیں،یا چیزیں پڑھ کر جلا دیں۔23
(جاری ہے)
حوالہ جات

1. فتح الباری شرح صحیح بخاری: 10؍206

2. فتح الحق المبین فی احکام رقی الصرع والسحر والعین از ابوالبرا اسامہ بن یاسین،دارالمعانی، عمان ، اُردن

3. مسنداحمد:15؍331، رقم 9536

4. صحیح مسلم: 2230

5. الردّالمبین علی بدع المعا لجین از ابراہیم عبد العلیم عبد البر :ص96

6. تفسیرابن کثیر1؍144،السحروالحسد:ص:85،الصارم البتاراز وحید عبد السلام بالی:ص81

7. الردّالمبین علی بدع المعا لجین از ابراہیم عبد العلیم عبد البر:ص76

8. الردّالمبین علی بدع المعالجین:ص280

9. الزهد ازامام احمد: ص15 (صحیح موقوفاً) ،ابونعیم فی حلیۃ الاولیا: 1؍203،... بحوالہ فتح المجید شرح کتاب التوحید148

10. صحیح مسلم: ۲۲۳۰

11. سنن ترمذی: ۱۳۵؛سنن ابن ماجہ: ۶۳۹

12. صحیح بخاری: 5687

13. معجزات الشفا از ابوالفدامحمدعزت :ص32بحوالہ فتح الحق المبین از ابو البراء اسامہ بن یاسین:151

14. صحیح بخاری: 5779

15. صحیح بخاری:5680
16. سورۃ اعراف:112تا117، سورۃ یونس:79تا82، سورۃ طہ:65 تا69
17. فتح الباری شرح صحیح بخاری کتاب الطب،الفتاوی الذہبیہ فی الرقی الشرعیۃ ص:145؛ علاج الامراض بالقرآن والسنہ: 24 تا26، از شیخ ابن باز

18. صحیح مسلم :542

19. سنن ابن ماجہ: 3548صحیح، مسند احمد:4؍170، 29؍105رقم 17563،زاد المعاد4؍68

20. صحیح مسلم:4؍1922

21. صحیح ابن حبان،مسند بزار ،معجم طبرانی صغیر و کبیر ،صحیح الجامع:3435،3322

22. مسند الشہاب: 1094

23. صحیح الجامع: 2؍634،حدیث:3358

24. صحیح بخاری: 1222، صحیح مسلم: 389

25. صحيح بخاری مع الفتح: 10؍132،زاد المعاد: 4؍124 ،فتاوٰی بن باز:3؍228،فتاوی الذہبیہ از ڈاکٹر خالد بن عبد الرحمٰن الجریسی: ص138

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.

--
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.