nice
2016-09-08 12:11 GMT+05:00 Jhuley Lal <jhulaylall@gmail.com>:
--ابلیس کا اعتراف(سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں)تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یا رباُس گھڑی مجھ کو تو اِک آنکھ نہ بھایا یا رباس لیے میں نے، سر اپنا نہ جھکایا یا ربلیکن اب پلٹی ہےکچھ ایسی ہی کایا یا ربعقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کیقلب و جاں پاک تھے ،شفاف تھی طینت اس کیپھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کیاب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کیاس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!بھر دیا تُو نے بھلا کون سا فتنہ اس میںپکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میںاِک اِک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میںآگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میںاپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں !سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں !اب تو یہ خون کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے ،باپ سے ، بھائی سے، بیٹے سےبھی لڑ جاتا ہےجب کبھی طیش میں ہتھے سے اکڑ جاتا ہے،خود مِرے شر کا توازن بھی بِگڑ جاتا ہےاب تو لازم ہے کہ میں خود کو سیدھا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بَشرمیں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمترمجھ پہ پہلے نہ کھُلے اس کے سیاسی جوہرکان میرے بھی کُترتا ہے یہ قائد بن کرشیطانیت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لُوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!کچھ جِھجکتا ہے ، نہ ڈرتا ہے ،نہ شرماتا ہےنِت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہےاب یہ ظالم ، میرے بہکاوے میں کب آتا ہےمیں بُرا سوچتا رہتا ہوں ، یہ کر جاتا ہےکیا ابھی اس کی مُریدی کا ارادہ کر لوں!سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پرمِرے شر سے بھی سِوا ہے یہاں انسان کا شراب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مُجھ کو بہتراس سے پہلے کہ پہنچ جائے واں سوپر پاورمیں کسی اور ہی سیّارہ پر قبضہ کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!ظُلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نےنِت نئے پیچ مذاہب میں ڈالے اِس نےکر دیئے قید اندھیروں میں اجالے اس نےکام جتنے تھے مِرے ، سارے سنبھالے اس نےاب تو میں خود کو ہر اِک بوجھ سے ہلکا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!استقامت تھی کبھی اس کی ، مصیبت مجھ کواپنے ڈھب پر اسےلانا تھا ، قیامت مجھ کوکرنی پڑتی تھی بہت ، اس پہ مشقت مجھ کواب یہ عالم ہے کہ دن رات ، ہے فرصت مجھ کواب کہیں گوشۂ نشینی میں گزارا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!مَست تھا میں تِرے آدم کی حقارت کرکےخود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کرکےکیا مِلا مُجھ کو مگر ایسی حماقت کرکےکیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کرکےاپنے کھُوئے ہوئے رُتبہ کی تمنا کر لوںسوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com .
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company .
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout .
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.
No comments:
Post a Comment