منافق اور اس کی سزا
سورة التوبة آیات۸۱۔۸۹
فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ بِمَقۡعَدِہِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ وَ کَرِہُوۡۤا اَنۡ یُّجَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ قَالُوۡا لَا تَنۡفِرُوۡا فِی الۡحَرِّ ؕ قُلۡ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۸۱﴾
خوش ہو گئے پیچھے رہنے والے اپنے بیٹھ رہنے سے جدا ہو کر رسول اللہ سے اور گھبرائے اس سے کہ لڑیں اپنے مال سےاور جان سے اللہ کی راہ میں [۸۸] اور بولے کہ مت کوچ کرو گرمی میں [۸۹] تو کہہ دوزخ کی آگ سخت گرم ہے اگر ان کو سمجھ ہوتی [۹۰]
Those who were left behind were happy with their sitting back to the displeasure of the Messenger of Allah, and they disliked carrying out Jihād in the way of Allah with their wealth and lives, and they said, "Do not march in this hot weather." Say, "The fire of Jahannam is much more intense in heat," only if they could understand.
فَلۡیَضۡحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّ لۡیَبۡکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾
سو وہ ہنس لیویں تھوڑ ا اور روویں بہت سا بدلا اس کا جو وہ کماتے تھے [۹۱]
So, let them laugh a little, and weep a lot, this being a reward of what they used to earn.
فَاِنۡ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنۡہُمۡ فَاسۡتَاۡذَنُوۡکَ لِلۡخُرُوۡجِ فَقُلۡ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ اِنَّکُمۡ رَضِیۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾
سو اگر پھر لے جائے تجھ کو اللہ کسی فرقہ کی طرف ان میں سے [۹۲] پھر اجازت چاہیں تجھ سے نکلنے کی تو تو کہہ دینا کہ تم ہرگز نہ نکلو گے میرے ساتھ کبھی اور نہ لڑو گے میرے ساتھ ہو کر کسی دشمن سے تم کو پسند آیا بیٹھ رہنا پہلی بار سو بیٹھے رہو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ [۹۳]
Then, if Allah brings you back to a group of them and they seek your permission to march, say to them, "You shall never march with me ever after, and shall never fight an enemy in my company. You were happy with sitting back the first time; now, sit with those remaining behind".
وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۴﴾
اور نماز نہ پڑھ ان میں سے کسی پر جو مر جائے کبھی اور نہ کھڑا ہو اس کی قبر پر [۹۴] وہ منکر ہوئے اللہ سے اور اسکے رسول سے اور وہ مر گئے نافرمان [۹۵]
And never offer a prayer on any one of them who dies, and do not stand by his grave. They disbelieved in Allah and His Messenger and died while they were sinners.
وَ لَا تُعۡجِبۡکَ اَمۡوَالُہُمۡ وَ اَوۡلَادُہُمۡ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنۡیَا وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾
اور تعجب نہ کر ان کے مال اور اولاد سے اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ عذاب میں رکھے انکو ان چیزوں کے باعث دنیا میں اور نکلے ان کی جان اور وہ اس وقت تک کافر ہی رہیں [۹۶]
Their wealth and children should not attract you. Allah only wills to punish them with these in this world and that their souls depart while they are disbelievers.
وَ اِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ جَاہِدُوۡا مَعَ رَسُوۡلِہِ اسۡتَاۡذَنَکَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡہُمۡ وَ قَالُوۡا ذَرۡنَا نَکُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾
اور جب نازل ہوتی ہے کوئی سورت کہ ایمان لاؤ اللہ پر اور لڑائی کرو اسکے رسول کے ساتھ ہو کر جو تجھ سے رخصت مانگتے ہیں مقدور والے انکے اور کہتے ہیں ہم کو چھوڑ دے کہ رہ جائیں ساتھ بیٹھنے والوں کے
When a Sūrah is revealed (saying), "Believe in Allah and carry out Jihād in the company of His Messenger" the capable ones from them seek your permission and say, "Let us remain with those sitting back."
رَضُوۡا بِاَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۸۷﴾
خوش ہوئے کہ رہ جائیں پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ [۹۷] اور مہر کر دی گئی ان کے دل پر سو وہ نہیں سمجھتے [۹۸]
They are happy to be with women who sit back, and their hearts are sealed; so they do not understand.
لٰکِنِ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡخَیۡرٰتُ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸۸﴾
لیکن رسول اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ساتھ اسکے وہ لڑے ہیں اپنے مال اور جان سے اور انہی کے لئے ہیں خوبیاں اور وہی ہیں مراد کو پہنچنے والے
But the Messenger and the believers in his company have carried out Jihād with their wealth and lives, and for them there are the good things, and they are the successful.
اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿٪۸۹﴾
تیار کر رکھے ہیں اللہ نےانکے واسطے باغ کہ بہتی ہیں نیچے انکے نہریں رہا کریں ان میں یہی ہے بڑی کامیابی [۹۹]
Allah has prepared for them gardens beneath which rivers flow where they will live forever. That is the supreme achievement.
[۸۸]منافقین کی سزا:
یہ ان منافقین کے متعلق ہے جو غزوہ تبوک کی شرکت سے علیحدہ رہے ۔ یعنی منافقین کا حال یہ ہے کہ برائی اور عیب کے کام کر کے خوش ہوتے ہیں نیکی سے گھبرا کر دور بھاگتے ہیں۔ اور جیسا کہ پہلے گذرا نیکی کرنے والوں پر طعن کرتے اور آوازے کستے ہیں۔ ایسی قوم کو نبی کے استغفار سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ یہاں سے گنہگار اور بد اعتقاد کا فرق نکلتا ہے۔ گناہ ایسا کون سا ہے جو پیغمبر کے بخشوانے سے نہ بخشا جائے وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا (نساء۔۶۴) لیکن بد اعتقاد کو پیغمبر کا ستر مرتبہ استغفار فائدہ نہ دے
۔
[۸۹]یا تو منافقین آپس میں ایک دوسرے کو کہتے تھے اور یا بعض مومنین سےکہتے ہوں گے کہ ان کی ہمتیں سست ہو جائیں
۔
[۹۰]یعنی اگر سمجھ ہوتی تو خیال کرتے کہ یہاں کی گرمی سے بچ کر جس گرمی کی طرف جا رہے ہو وہ کہیں زیادہ سخت
ہے یہ تو وہی مثال ہوئی کہ دھوپ سے بھاگ کر آگ کی پناہ لی جائے ۔ حدیث میں ہے کہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ تیز ہے۔ نعوذ باللہ منہا۔
[۹۱]یعنی چند روز اپنی حرکات پر خوش ہو لو اور ہنس لو۔ پھر ان کرتوتوں کی سزا میں ہمیشہ کو رونا ہے۔
[۹۲]حضور صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں تھے اور منافقین مدینہ میں۔ ممکن تھا کہ بعض منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی سے قبل مر جائیں ۔ اس لئے
اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنۡہُمۡ فرمایا۔
[۹۳]منافقین کو جہاد میں شرکت کرنےکی ممانعت:
یعنی اب اگر یہ لوگ دوسرے غزوہ میں ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو فرما دیجئے کہ بس! تمہاری ہمت و شجاعت کا بھانڈا پھوٹ چکا اور تمہارے دلوں کا حال پہلی مرتبہ کھل چکا نہ تم کبھی ہمارے ساتھ نکل سکتے ہو اور نہ دشمنان اسلام کے مقابلہ میں بہادری دکھا سکتے ہو لہذا اب تم کو تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں عورتوں اور بچوں اپاہج اور ناتواں بڈھوں کے ساتھ گھر میں گھسے بیٹھے رہو اور جس چیز کو پہلی دفعہ تم نے اپنے لئے پسند کر لیا ہے مناسب ہے کہ اسی حالت پر مرو۔ تاکہ اچھی طرح عذاب الہٰی کا مزہ چکھو
۔
[۹۴]یعنی دعا و استغفار کے لئے یا اہتمام دفن کے لئے
۔
[۹۵]منافقین کی نماز جنازہ کی ممانعت:
یہ آیت عبداللہ بن ابی کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی جیسا کہ چند آیات پہلے ہم مفصل بیان کر چکے ہیں اس آیت کے نزول کے بعد منافقین کا جنازہ پڑھانا قطعًا ممنوع ہو گیا۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ احتیاطًا ایسے شخص کا جنازہ نہ پڑھتے تھے جس کی نماز میں حضرت حذیفہ شریک نہ ہوں ۔ کیونکہ ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے منافقین کا نام بنام علم کرا دیا تھا۔ اسی لئے ان کا لقب "صاحب سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " ہوا
۔
[۹۶]چار رکوع پہلے اسی مضمون کی آیت گذر چکی اس کا فائدہ ملاحظہ کر لیا جائے
۔
[۹۷]جہاد سے جان چرانا:
یعنی قرآن کی کسی سورت میں جب تنبیہ کی جاتی ہے کہ پوری طرح خلوص و پختگی سے ایمان لاؤ۔ جس کا بڑا اثر یہ ظاہر ہونا چاہئے کہ پیغمبر علیہ السلام کے ساتھ ہو کر خدا کے راستہ میں جہاد کریں۔ تو یہ منافقین جان چرانے لگتے ہیں اور ان میں کے استطاعت و مقدر والے بھی جھوٹے عذر تراش کر اجازت طلب کرنے آتے ہیں کہ حضرت! ہمیں تو یہیں مدینہ میں رہنے دیجئے۔ گویا کمال بے غیرتی اور نامردی سے اس پر راضی ہیں کہ لڑائی یا خطرہ کا نام سنتے ہی خانہ نشین عورتوں کے ساتھ گھروں میں گھس کر بیٹھ رہیں۔ ہاں جس وقت جنگ وغیرہ کا خطرہ نہ رہے اور امن و اطمینان کا زمانہ ہو تو باتیں بنانے اور قینچی کی طرح زبان چلانے میں سب سے پیش پیش ہوتے ہیں فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنُھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ فَاِذَا ذَھَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْ کُمْ بِاَلْسِنَۃٍ حِدَادٍ (الاحزاب رکوع۲)۔
[۹۸]یعنی کذب و نفاق ، نکول عن الجہاد اور تخلف عن الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شامت سے ان کے دلوں پر مہر کر دی گئ کہ اب موٹے
موٹے عیب نظر نہیں آتے اور انتہائی بے غیرتی و بزدلی پر بجائے شرمانے کے نازاں و فرحاں ہوتے ہیں
۔
[۹۹]مومنین کے فضائل:
منافقین کے بالمقابل مومنین مخلصین کا بیان فرمایا کہ دیکھو! یہ ہیں خدا کے وفادار بندے۔ جو اس کے راستہ میں نہ جان سے ہٹتے ہیں نہ مال سے کیسا ہی خطرہ کا موقع ہو اسلام کی حمایت اور پیغمبر اسلام کی معیت میں ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں۔ پھر ایسوں کے لئے فلاح و کامیابی نہ ہوگی تو اور کس کے لئے ہو گی۔
You received this message because you are subscribed to the Google Groups "Vu and Company" group.
To unsubscribe from this group and stop receiving emails from it, send an email to vu-and-company+unsubscribe@googlegroups.com.
Visit this group at https://groups.google.com/group/vu-and-company.
For more options, visit https://groups.google.com/d/optout.
No comments:
Post a Comment